سلسلہ احمدیہ — Page 169
169 کمرہ تیار کروا کر حضور سے وہاں پر تشریف لے جانے کی درخواست کی لیکن حضور نے فرمایا کہ میں یہی انتظار کروں گا اور ایمر جنسی کے باہر لان میں کھڑے ہو کر مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کی صحت کے متعلق اطلاع کا انتظار کرتے رہے۔پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے پاکستان میں انتخابات کے بعد انتقال اقتدار کی بجائے مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی کا افسوسناک آغاز ہو گیا۔اور پھر ۱۹۷۱ ء میں پاکستان اور ہندوستان کی جنگ کے بعد مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔واقعات کا یہ تسلسل اس خطے کے مسلمانوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔لیکن چونکہ اس کا براہِ راست جماعت احمدیہ کی تاریخ سے تعلق نہیں اس لیے ہم ان واقعات کی تفصیل میں نہیں جائیں گے۔البتہ ہم اس سانحے کے متعلق حضرت خلیفہ اسح الثالث کے چند ارشادات پیش کریں گے۔جنگ ختم ہونے کے بعد پہلے خطبہ جمعہ میں حضور نے سورۃ النصر کی تلاوت کر کے ارشاد فرمایا۔اس سورۃ میں بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ مصیبت کے وقت اور پریشانی کے وقت جو دراصل انسان کے اپنے گناہ اور اپنی کوتاہی اور بدعملی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے، انسان اللہ تعالیٰ سے قوت حاصل کئے بغیر اس پریشانی اور تکلیف اور دکھ سے نجات نہیں حاصل کر سکتا۔استغفار کے معنے یہ ہیں ( کیونکہ یہ غَفَرَ سے ہے ) کہ اللہ تعالیٰ سے حفاظت طلب کرنا اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں مانگنا کہ جو فساد اور رخنہ کسی رنگ میں پیدا ہو گیا ہے وہ اسے دور کرے اور اصلاح امرکرے۔۔۔۔اگر آج ہم اپنے اوپر اس قسم کی موت وارد کر لیں اگر ہم خدا تعالیٰ کے پیار میں کھوئے جائیں اگر ہم اپنے وجود پر فنا کی آندھیاں چلا کر خدا تعالیٰ کی صفات سے حصہ لینے لگیں تو دنیا کی کون سی طاقت ہے جو ہمیں مار سکے۔دنیا کی کوئی طاقت خدا تعالیٰ کے پیاروں کو نیست و نابود اور ہلاک نہیں کر سکتی۔اس لئے ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔