سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 168 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 168

168 کھڑا تھا، مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب اسلام آباد کے سیکریٹریٹ میں صبح کو اپنے معمول کے مطابق مرکزی سیکریٹریٹ آئے اور سوا آٹھ بجے آپ لفٹ میں اپنے دفتر جارہے تھے۔جس وقت لفٹ کا دروازہ بند ہو رہا تھا اس وقت کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک فورمین اسلم قریشی بھی لفٹ میں سوار ہو گیا۔اور اس وقت کسی نے اس شخص کو سوار ہونے سے نہیں روکا۔جب لفٹ کا دروازہ بند ہوا تو اس وقت اسلم قریشی نے چاقو نکالا اور صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کے پیٹ پر وار کیا۔وہ دوسر اوار کرنے لگا تھا کہ لفٹ والے اور دفتر کے ایک اور ملازم نے اسے پکڑ لیا۔اس پر اسلم قریشی نے صاحبزادہ صاحب پر پھر بھر پور وار کرنے کی کوشش کی اور گالیاں نکالنی شروع کر دیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔لفٹ چلانے والے نے لفٹ کا دروازہ کھول دیا اور صاحبزادہ صاحب کو سہارا دے کر نکالا گیا۔پہلے اسلام آباد پولی کلینک لے جا کر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور پھر سی ایم ایچ لے جایا گیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب روز نامہ امروز نے یہ خبر شائع کی تو ساتھ اس عنوان کے تحت بھی کچھ سطور لکھیں ” اسلم قریشی کا ماضی بے داغ ہے اور اس کے نیچے لکھا کہ جب اس کو جاننے والوں کو اس حملہ کا علم ہوا تو انہیں بہت حیرت ہوئی کیونکہ اس سے قبل اسلم قریشی کسی لڑائی جھگڑے میں ملوث نہیں رہا اور لوگ اس کی سنجیدگی ، متانت اور شرافت کے قائل تھے اور وہ کسی فرقہ پرست جماعت کا رکن بھی نہیں ہے (۲۸،۲۷،۲۶)۔یہ ایک معمول کی بات ہے کہ جب کوئی کسی احمدی پر اس قسم کا حملہ کرتا ہے تو ایک طبقہ مفسدوں کی حمایت پر کمر بستہ ہو جاتا ہے۔جیسا کہ ہم جائزہ لے چکے ہیں کہ جب حضرت مصلح موعوددؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو سیشن عدالت نے سزا سناتے ہوئے مجرم کی کچھ مدح سرائی بھی کی تھی۔اب اسلم قریشی کے متعلق بھی پریس کا ایک حصہ اس قسم کا رویہ اپنائے ہوئے تھا۔یہ صاحب کتنے شریف الطبع تھے ہم اس کا جائزہ ۱۹۸۴ ء کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے لیں گے۔اس وقت یہ لکھنا ہی کافی ہے یہ صاحب تمام عمر نہایت سنجیدگی سے ملک میں صرف فتنہ وفساد پیدا کرنے کے لئے کمر بستہ رہے تھے۔اتفاق سے جب یہ واقعہ ہوا تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث اسلام آباد ہی میں تشریف رکھتے تھے۔حضور کی خدمت میں مکرم مولا نا سلطان محمود انور صاحب نے یہ اطلاع پہنچائی۔حضور اس وقت تیار ہو کرسی ایم ایچ ہسپتال تشریف لے آئے جہاں پر مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کا علاج ہو رہا تھا۔اس وقت اس ہسپتال کے انچارج ایک احمدی ڈاکٹر صاحب تھے، انہوں نے حضور کے لیے ایک