سلسلہ احمدیہ — Page 167
167 مخالفین کے ارادے ان سیاسی پارٹیوں کو ۱۹۴۷ء میں بھی ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جب انہیں شکست ہوئی تھی اور مسلم لیگ مرکز میں تمام مسلم نشستوں پر کامیاب ہو گئی تھی۔اور ان کو اس بات کا بھی غم تھا کہ جماعت احمدیہ نے مسلم لیگ کا ساتھ دیا تھا اور مسلم لیگ کو انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر سیاسی منظر پر اپنی جگہ بنانے کے لیے اور احمدیوں سے انتقام لینے کے لیے یہ حربہ استعمال کیا تھا کہ احمدیوں کے خلاف ایک زہریلی مہم چلائی جائے اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ خون خرابہ ہو اور پھر ان فسادات کی آڑ میں اپنے مطالبات منظور کرائے جائیں۔اور اس آڑ میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ بحال کی جائے۔اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے مسلم لیگ کے ہی ایک ایسے طبقہ کو اپنے ساتھ ملالیا تھا جو جماعت احمدیہ کا مخالف تھا یا اپنی سیاسی اغراض کے لیے جماعت احمدیہ کے خلاف مہم میں شامل ہونا چاہتا تھا۔اس مرتبہ بھی انہوں نے جلد ہی یہ اعلان کر دیا کہ قادیانیوں کو وہم ہو گیا ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آیا ہے وہ انہیں مسلمانوں کا جزو بنالیں گے۔انہیں بہر حال ایک اقلیت بن کر رہنا پڑے گا۔اور یہ دھمکی چٹان کے اسی شمارے میں شائع بھی کر دی گئی (۲۵)۔تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرا رہی تھی۔جماعت احمدیہ کے خلاف ایک بار پھر سازش تیار کی جارہی تھی۔مگر اب جماعت احمدیہ کا عالمی پھیلاؤ پہلے کی نسبت کافی بڑھ چکا تھا اور اسی نسبت سے اس نئی سازش کا دائرہ بھی وسیع تر کیا جارہا تھا۔جب ۱۹۵۳ء کے فسادات بر پا کرنے کی تیاری ہو رہی تھی اس وقت حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پاکستان کے وزیر خارجہ تھے اور شروع ہی سے مخالفین نے آپ کی ذات کو نشانہ بنایا تھا اور آپ کی برطرفی کا مطالبہ ان کے بڑے مطالبات میں سے ایک تھا۔اور اب جبکہ جماعت احمدیہ کے خلاف ایک اور فسادات کی تیاری کی جارہی تھی اس وقت حضرت مسیح موعود کے پوتے اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے صاحبزادے مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب ملک کی مرکزی کابینہ میں صدر کے اقتصادی مشیر تھے۔۱۵ ستمبر ۱۹۷۱ء کو جب کہ ملک ایک آتش فشاں کے دہانے پر