سلسلہ احمدیہ — Page 165
165 بدلنے پر درد ہوتا تھا۔مگر اگلے روز پھر درد میں اضافہ ہو گیا۔ایکسرے پر ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر تو نہیں تھا لیکن بعض مقامات پر ہڈی دب گئی تھی۔درد کو رفع کرنے کے لیے عضلات میں بھی انجکشن دیئے گئے۔مکرم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کے علاوہ مکرم پروفیسر مسعود احمد صاحب اور ڈاکٹر کرنل محمود الحسن صاحب حضور کی خدمت کی سعادت حاصل کرتے رہے۔کمر پر چوٹ کی وجہ سے ایک عرصہ تک حضور نماز پڑھانے کے لیے تشریف نہیں لا سکے کیونکہ کمر کی تکلیف کی وجہ سے آپ کے لیے جھکنا ممکن نہیں تھا۔آپ ۱۶ اکتو بر ۱۹۷۱ء کونماز جمعہ کیلئے مسجد اقضی ربوہ میں تشریف لائے اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔خطبہ کے بعد حضور نے مکرم مولا نا ابو العطاء صاحب کو نماز پڑھانے کا ارشاد فرمایا۔اس وقت تک کمر کی تکلیف کو تو آرام تھا مگر لمبا عرصہ لیٹا رہنے کی وجہ سے گھٹنوں میں تکلیف شروع ہوگئی تھی اور حضور کے لیے ابھی بھی قعدہ میں بیٹھنا ممکن نہیں تھا۔مکرم بشیر احمد خان رفیق صاحب پرائیویٹ سیکر ٹری تحریر کرتے ہیں: دو سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی عام طبیعت ماشاء اللہ ٹھیک ہے لیکن گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے اور لمبا عرصہ لیٹے رہنے کی وجہ سے جو کھچاؤ اعضاء میں پیدا ہو گیا تھا اُس میں پوری طرح افاقہ نہیں ہوا اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ التحیات کی حالت میں ابھی بسہولت نہیں بیٹھ سکتے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اور احباب جماعت دعا کر رہے ہیں۔چنانچہ مورخہ ۷ ۲ اور ۲۸ جون کی درمیانی رات کو گھوڑ انگلی میں رات کے دو بجے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑے زور کے ساتھ ایک شعر کے الفاظ سنے اور نیم بیداری کی صورت میں ان الفاظ کو ایک دیوار پر خوبصورتی سے منقش صورت میں بھی دیکھا۔شعر تو پوری طرح حضور کو یاد نہیں رہ سکا لیکن جو حصہ اُس کا یا درہ گیا وہ یہ ہے۔دامن رحمت حق تیری اذیت اُڑا کر لے گئی اللہ تعالیٰ سے دعا ہے وہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اور تمام اذیتیں دور کر دے آمین یا رب العالمین۔“ (۱) الفضل ۲۳ جنوری ۱۹۷۱ ص ۱ (۲) الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۷۱ ص ۱ (۳) الفضل ۲۶ جنوری ۱۹۷۱ ص ۱ (۴) الفضل ۱۰ مارچ