سلسلہ احمدیہ — Page 161
161 پیپلز پارٹی ملک کی بدلتی ہوئی صورت حال میں اب نا قابل ذکر ہو چکی ہے۔اور ان کی کسی بھی سیٹ پر کامیابی مشکوک ہے۔اور آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی یقیناً برسر اقتدار آ جائے گی۔(۲۰) جماعت اسلامی کو مشرقی پاکستان میں بھی خاطر خواہ کامیابی کی امیدیں تھیں۔بعد میں جب حمود الرحمن کمیشن کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ عوامی لیگ کے قائد مجیب الرحمن صاحب نے اس وقت جماعت اسلامی اور دولتانہ صاحب کی کونسل لیگ کو انتخابی مفاہمت کی پیشکش کی تھی جس کی رو سے کچھ سیٹوں پر ان جماعتوں کے امیدواروں کے مقابل پر عوامی لیگ ان جماعتوں کے امیدواروں کے مقابل پر اپنے امیدوار نہ کھڑے کرنے کے لیے تیار تھی۔لیکن ان جماعتوں نے یہ پیشکش اس بنیاد پر مستر د کر دی کہ عوامی لیگ انہیں جتنی نشستیں دینے کے لیے تیار تھی جماعت اسلامی اور دولتانہ صاحب کی کونسل لیگ کو اس سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی امید تھی۔لیکن آخر نتیجہ یہ نکلا کہ یہ جماعتیں مشرقی پاکستان سے ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکیں۔(۲۱) یہ خیال کہ مغربی پاکستان میں مذہبی جماعتیں کہلانے والی سیاسی پارٹیاں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکیں گی صرف ان جماعتوں تک محدود نہیں تھا۔بلکہ دوسرے حلقے بھی اس رائے کا اظہار کر رہے تھے کہ گو جماعت اسلامی مغربی پاکستان میں اکثریت تو حاصل نہیں کر سکے گی لیکن مغربی پاکستان کے ایک چوتھائی سے زیادہ ووٹر جماعت اسلامی کے حق میں ووٹ دیں گے۔اخبار نوائے وقت نے انتخابات سے چند روز قبل ایک جائزہ شائع کیا جس کے مطابق ۳۷ فیصد ووٹر پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔۲۸ فیصد ووٹر جماعت اسلامی کے حق میں اور ۲۶ فیصد دولتانہ صاحب کی کونسل مسلم لیگ کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ایسی صورت میں جبکہ کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہ ہو رہی ہوا یسی جماعتیں بھی بہت اہمیت حاصل کر جاتی ہیں جنہوں نے تقریباً ایک چوتھائی ووٹ حاصل کیے ہوں۔(۲۲) ۱۹۷۰ء کے انتخابات بہر حال ان قیاس آرائیوں کے درمیان عام انتخابات کا دن آ گیا۔ے دسمبر کی رات کو ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔کچھ نتائج بھی سامنے آنے شروع ہوئے۔ووٹنگ شروع ہوتے ہی تین باتیں بہت