سلسلہ احمدیہ — Page 160
160 بھٹو مسلمانوں کی اسلام سے شیفتگی کونئی پود کے سینے سے نکال رہا ہے اور جن شخصیتوں پر مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا انحصار رہا ہے، ان کی عقیدت نئی نسل سے ختم کرنا چاہتا ہے۔(۱۲) بعض اخبارات میں یہ خبریں شائع کی جارہی تھیں کہ پیپلز پارٹی کے بہت سے اہم کارکنان اسے چھوڑ رہے ہیں اور ان میں سے بعض کے یہ بیان بھی شائع کئے جاتے تھے کہ ہم پیپلز پارٹی کو اس لئے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ اس نے جماعت احمدیہ سے اتحاد کر لیا ہے (۱۷)۔یہ شور وغل ان کی اپنی ذہنی بوکھلاہٹ کی عکاسی کر رہا تھا ورنہ جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ جماعت احمدیہ کا کسی سے سیاسی اتحاد ہو ہی نہیں سکتا۔البتہ بعض مخصوص حالات میں اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت کے لیے پاکستانی احمدیوں نے اپنا قانونی حق استعمال کیا تھا اور اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔مخالفین کی خوش فہمیاں جماعت کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کو آخر تک بہت سی امیدیں تھیں کہ انتخابات میں انہی کا پلہ بھاری رہے گا۔کونسل مسلم لیگ کے نائب صدر نے ایک جلسہ میں یہ دعویٰ کیا کہ اگر پیپلز پارٹی کا کوئی امید وار زرضمانت بچانے میں کامیاب ہو گیا تو وہ عملی سیاست سے مستعفی ہو جائیں گے (۱۸) اور اس کے لیڈر یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر جدا گانہ انتخابات کا نظام لائیں گے یعنی مذہبی اقلیتوں کو انتخابات میں عام نشستوں سے بھی کھڑا ہونے کی اجازت نہیں ہوگی ، ان کی نشستیں علیحدہ ہوں گی تا کہ وہ ملکی سیاست کے دھارے سے علیحدہ ہی رہیں۔(۱۹) الیکشن میں ایک ماہ سے بھی کم رہ گیا تھا اور جماعت احمدیہ کی اشد مخالف جماعت ، جمعیت العلماء پاکستان کو یہ امیدیں لگی ہوئی تھیں کہ وہ اپنی روحانیت کے بل بوتے پر پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں گے۔چنانچہ ان کے صدر خواجہ قمر الدین سیالوی نے ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم روحانیت کے بل بوتے پر انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے۔اور یہ روحانیت ہمیں ورثہ میں ملی ہے۔اور مزید کہا کہ ہماری جماعت ایسا اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے جو خلافت راشدہ کا نمونہ ہو (۱۹)۔( شاید اپنی روحانیت پر انحصار کا یہ نتیجہ تھا کہ اس جماعت کو انتخابات میں شدید نا کامی کا سامنا کرنا پڑا) جماعت اسلامی بھی ایک بہت بڑی کامیابی کے خواب دیکھ رہی تھی۔چنانچہ اس کے لیڈر جلسوں میں دعوے کر رہے تھے کہ