سلسلہ احمدیہ — Page 150
150 ایک لیڈر ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے انتخابی مہم کا خاکہ اور ان امیدواروں کی فہرست دکھائی جن کو پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دیا تھا۔جب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے یہ فہرست ملاحظہ فرمائی تو ان میں سے اکثریت کمیونسٹ حضرات کی تھی۔جب بھٹو صاحب واپس آئے تو آپ نے انہیں کہا کہ اگر یہ کمیونسٹ حضرات بھٹو صاحب کی مقبولیت کی آڑ میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان پر کمیونسٹوں کا قبضہ ہو جائے گا۔اگر تو وہ کمیونسٹوں کا قبضہ چاہتے ہیں تو اس لسٹ کو برقرار رکھیں ورنہ اسے تبدیل کر دیں۔بھٹو صاحب نے پارٹی کے سینیئر لیڈروں کی میٹنگ طلب کی اور پھر یہ اعلان کیا کہ یہ لسٹ حتمی نہیں ہے۔بالآخر جونٹی لسٹ بنائی گئی اس میں کمیونسٹ حضرات کی تعداد کافی کم تھی (۱۷)۔اس دوران ملک کی انتخابی مہم میں تیزی آتی جارہی تھی۔اور بہت سے پہلوؤں سے حالات مخدوش نظر آ رہے تھے۔جماعت احمد یہ ایک مذہبی جماعت ہے اور سیاسی عزائم نہیں رکھتی۔لیکن پاکستان کے احمدی محبّ وطن شہری ہیں اور انہیں دیانتداری سے آئندہ انتخابات میں اپنی رائے کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا تھا۔یہ فیصلہ کس طرح اور کن بنیادوں پر کیا گیا۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مئی ۱۹۷۳ء میں منعقد وو ہونے والی ہنگامی مجلس شوری میں جس کا تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا ان الفاظ میں روشنی ڈالی۔۔۔لیکن مغربی پاکستان میں صورت اس کے بالکل برعکس تھی۔اگر خدانخواستہ یہاں دس پارٹیوں کے ایک جیسے ارکانِ اسمبلی منتخب ہو جاتے تو گویا مغربی پاکستان سے قومی اسمبلی کے ۱۴۰ ارکان میں سے ۱۴۔۱۴ ارکان ہر ایک کے حصہ میں آتے یا اگر تھوڑا بہت فرق بھی ہوتا تو کوئی پارٹی پندرہ اور کوئی بیس کی تعداد میں کامیاب ہوتی کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوتی تو ان حالات میں مغربی پاکستان بھی باقی نہ ہوتا۔یہ حصہ ملک بھی ختم ہو چکا ہوتا کیونکہ اکثریتی پارٹی کے علاوہ جو پارٹیاں کامیاب ہوئیں (ایک تو بالکل ناکام ہوئی ان کے منصوبے اور ان کی سوچ جس نہج پر ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ پاکستان کو مضبوط ہونے کی بجائے کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں یعنی غدار ہیں اور یہ میں اس لئے نہیں کہ سکتا کہ میرے پاس ایسے ذرائع نہیں کہ میں پوری تحقیق کروں لیکن میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی جو پالیسی ہے اور ان کے جو پلیٹ فارم ہیں وہ پاکستان کو مضبوط و مستحکم کرنے والے نہیں