سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 149 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 149

149 مغربی پاکستان میں صورتِ حال یہ تھی کہ تقریباً دس جماعتیں میدان میں اتری ہوئی تھیں اور کوئی جماعت اتنی مضبوط نظر نہیں آ رہی تھی کہ یہاں کے سیاسی منظر پر واضح برتری حاصل کر سکے۔اس صورتِ حال میں دو بڑے خدشات نظر آ رہے تھے۔ایک تو یہ کہ اس سیاسی خلا میں نام نہاد مذہبی جماعتیں کوئی بڑی کامیابی حاصل کر لیں اور اپنے زعم میں انہیں بڑی کامیابی کی کافی امید بھی تھی۔علاوہ اس حقیقت کے کہ یہ مذہبی پارٹیاں جماعت احمدیہ کی شدید مخالف تھیں۔ان کے نظریات ایسے تھے کہ وہ پاکستان کی سالمیت اور اہلِ پاکستان کی آزادی کے لیے بھی بہت بڑا خطرہ تھے۔دوسری طرف یہ خطرہ بھی تھا کہ مغربی پاکستان میں دس کی دس جماعتیں کچھ سیٹیں حاصل کر جائیں اور کوئی بھی اس قابل نہ ہو کہ مستحکم حکومت بنا سکے اور اس طرح ایک سیاسی ابتری اور عدم استحکام کی صورت پیدا ہو جائے۔اور یہ صورت کسی بھی ملک کے استحکام کے لیے زہر کا درجہ رکھتی ہے۔یہ امر پاکستان کے احمدیوں کے لیے دُہری پریشانی کا باعث تھا۔ایک تو یہ کہ آنحضرت کی مبارک تعلیم کے مطابق احمدی جس ملک کا باشندہ ہو اس کا سب سے زیادہ وفا دار اور خیر خواہ ہوتا ہے اور جب پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ دکھ پاکستانی احمد یوں کو ہی ہوتا ہے۔دوسرے یہ کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مرکز تھا اور اسی مرکز سے پوری دنیا میں اسلام کی عالمگیر تبلیغ کی مہم چلائی جا رہی تھی۔اگر اس ملک میں افراتفری اور طوائف الملو کی کے حالات پیدا ہو جاتے تو اس سانحہ کے جماعت کی مساعی پر منفی اثرات مرتب ہوتے۔ایک محب وطن شہری کی حیثیت سے احمدیوں کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آئندہ الیکشن میں کس جماعت کو ووٹ دینے ہیں۔اس مرحلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور سابق وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے جماعت سے رابطہ کیا اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی اجازت سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ان سے ملاقات کے لیے گئے۔بھٹو صاحب نے اپنی انتخابی مہم کے متعلق بات شروع کی ، انہیں یہ امید تھی کہ ان کی انتخابی مہم کے لیے جماعت کوئی مالی مدد کرے گی لیکن اس کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ یہ ممکن نہیں ہوگا کیونکہ جماعت احمد یہ ایک مذہبی جماعت ہے اور وہ اس طرح ایک سیاسی پارٹی کی مدد نہیں کر سکتی۔بھٹو صاحب نے اگلے روز ٹی وی پر ہونے والی اپنی تقریر کا ذکر بھی کیا۔دورانِ گفتگو بھٹو صاحب کو ایک پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا پڑا اور پیپلز پارٹی کے