سلسلہ احمدیہ — Page 146
146 مخالفین سلسلہ سازش تیار کرتے ہیں جب بھی کوئی الہی سلسلہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنا شروع کرتا ہے، یہ صورتِ حال اس کے مخالفین کے لیے نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔اور وہ ایک نئے غیظ و غضب کے ساتھ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں اور اس کو مٹانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔اور دوسری طرف یہ مخالفت اس الہی جماعت کے قدم ڈگمگانے کی بجائے اس کو اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کا وارث بناتی ہے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے آگے بڑھنا شروع کرتے ہیں۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ الہی جماعتوں کی ترقی مخالفت بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور یہ مخالفت مزید ترقیات کے سامان پیدا کرتی ہے۔اس طرح یہ دونوں عمل ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔یوں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک عرصہ سے مغربی افریقہ میں جماعت ترقی کر رہی تھی۔اور یہاں کی جماعتیں رفتہ رفتہ مستحکم ہورہی تھیں۔لیکن ۱۹۷۰ ء میں جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث" نے مغربی افریقہ کا دورہ کیا تو وہاں کی جماعتوں کا اخلاص، ان کی تنظیم، ان کا جوش روح پرور مناظر پیش کر رہے تھے۔نہ صرف وہاں کے احمدیوں نے اپنے امام کا والہانہ استقبال کیا بلکہ ان ممالک کے سربراہان نے ان کے وزراء نے اور غیر از جماعت شرفاء نے بھی اپنے اپنے رنگ میں اپنی محبت کا اظہار کیا۔وہاں کا پر لیس وہاں کے ریڈیو اور ٹی وی نے بھی جماعتی تقریبات کی خبروں کو ایک خاص اہمیت کے ساتھ شائع اور نشر کیا۔یہ مناظر دیکھ کر جہاں احمدی اپنے رب کا شکر ادا کر رہے تھے ، وہاں پر یہ خبریں جماعت کے مخالف گروہوں پر بجلی بن کر برس رہی تھیں۔وہ اب تک یہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ یہ ایک حقیر معمولی گروہ ہے جسے ہم برصغیر کی حدود میں ہی کچل کر رکھ دیں گے۔لیکن اب خدا تعالیٰ کی تقدیر انہیں یہ مناظر دکھا رہی تھی کہ یہ جماعت افریقہ کے دور دراز ممالک میں بھی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔جیسا کہ پہلے بھی جماعت کی تاریخ میں ہو چکا تھا، اب یہ لازمی بات تھی کہ جماعت احمدیہ کے معاندین اب کوئی نیا ز ہر یلا وار کریں گے تاکہ بزعم خود وہ جماعت کی ترقی کو روک سکیں۔اس دورہ کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ جماعت اسلامی پاکستان میں جماعت احمدیہ کے خلاف