سلسلہ احمدیہ — Page 140
140 ۱۹۷۲ء میں جماعت کا ایک نیا میڈیکل سینٹرا کارے کے قصبہ میں کھولا گیا۔یہاں کے لیے مکرم ڈاکٹر عزیز چوہدری صاحب کو مقرر کیا گیا۔اس قصبہ میں اکثریت کیتھولک عیسائیوں کی تھی۔اور یہاں پر پہلے کیتھولک ہسپتال ہوتا تھا جو ایک سال قبل حکومت نے لے لیا تھا۔جب یہاں پر کلینک شروع کیا گیا تھا تو مخالفت بھی شروع ہو گئی اور اکثر با اثر شخصیات نے تعاون نہیں کیا۔مکرم ڈاکٹر عزیز چوہدری صاحب نے اپنی ابتدائی رپورٹوں میں ہی لکھا کہ یہ جگہ نئے میڈکل سینٹر کے لیے موزوں نہیں ہے۔کچھ عرصہ بعد اس میڈیکل سینٹر کو بند کر دیا گیا۔مجلس نصرت جہاں کے تحت قائم ہونے والے ابتدائی تعلیمی ادارے جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ جماعت احمدیہ مغربی افریقہ میں پرائمری اور سکینڈری سکولوں کے ذریعہ اہل افریقہ کی خدمت کر رہی تھی۔لیکن اب حضور کے ارادے کے تحت اس کام میں ایک نئی تیزی اور ولولہ سے کام شروع کیا گیا۔اب ہم ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے ابتدائی سالوں میں کس طرح جماعت احمدیہ نے مغربی افریقہ میں نے تعلیمی ادارے قائم کرنے شروع کیے۔سب سے پہلے ہم غانا میں ہونے والی پیش رفت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔غانا نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے اجراء سے قبل بھی غانا میں جماعت کے تعلیمی ادارے قائم تھے۔اور ۱۹۵۰ ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد کے تحت کماسی کے مقام پر جماعت کے سیکنڈری سکول کا قیام عمل میں آیا تھا۔جو در بدرجہ ترقی کی منازل طے کر رہا تھا۔۱۹۷۰ء میں غانا میں وا کے مقام پر ایک سکول شروع کیا گیا۔اس کی عمارت ۱۹۷۳ء میں بنائی گئی۔اس سکول کے آغاز میں مکرم شکیل احمد صاحب منیر اور مکرم خلیل الرحمن صاحب فردوسی نے بڑی محنت سے اس ادارے کی خدمت کی۔یکم ستمبر ۱۹۸۲ ء میں اسی ادارے میں نصرت جہاں احمد یہ ٹیچر ٹریننگ کالج معرض وجود میں آیا۔غانا میں نصرت جہاں سکیم کے تحت کھلنے والا پہلا تعلیمی ادارہ تعلیم الاسلام احمد یہ کمرشل سیکنڈری سکول فومینہ تھا۔اس کے پہلے پر نسپل مکرم کمال الدین خان صاحب تھے جو اکتو بر ۱۹۷۰ء میں غانا پہنچے اور ایک کمیونٹی سنٹر میں عارضی طور پر اس سکول نے کام شروع کیا۔۱۹۷۴ء میں اس سکول کی مستقل