سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 139 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 139

139 قریب ہے۔اس لئے اس سنٹر میں سینیگال سے مریض بھی آنے لگے۔اس کے علاوہ مکرم ڈاکٹر محمد حفیظ خان صاحب اس سنٹر کے ارد گرد مختلف سب سینٹر بھی چلاتے رہے۔یہ میڈیکل سینٹر ۱۹۸۴ء میں بند کر دیا گیا۔جماعت نے گیمبیا میں اپنا اگلا میڈیکل سینٹر بصے کے مقام پر قائم کیا۔یہ جگہ گیمبیا کے انتہائی شمال میں ہے۔اور اس ہسپتال کے بانی ڈاکٹر مکرم طاہر احمد صاحب تھے۔پہلے گیمبیا کی حکومت نے اس عذر کے تحت یہاں پر جماعت کو میڈیکل سینٹر کھولنے کی اجازت نہ دی کہ یہاں پر حکومت خود کمل ہسپتال بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔لیکن بعد میں حکومت کو Contract پر بیرونِ ملک سے ڈاکٹر نہ مل سکے اور جو جرمن ڈاکٹر صاحب وہاں پر کام کر رہے تھے ان کے معاہدے کی مدت بھی ختم ہو رہی تھی۔اس صورتِ حال میں جب حکومت سے دوبارہ رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بغیر کسی حیل و حجت کے جماعت کو وہاں پر میڈیکل سینٹر کھولنے کی اجازت دے دی۔یہ میڈیکل سینٹر ۱۹۹۷ء میں بند کر دیا گیا لیکن ۲۰۰۴ ء میں اسے پھر سے جاری کیا گیا۔نائیجیریا نائیجیریا میں نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے اجراء سے قبل کا نو اور اپاپا ( لیگوس) میں جماعت کے میڈیکل سینٹر کام کر رہے تھے۔اب حضور نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس سکیم کے تحت نائیجیریا میں جماعت کے مزید کلینک کھولے جائیں۔ایک کلینک اجیبو اوڈے کے مقام پر کھولا گیا۔اور اس سکیم کے تحت نائیجیریا جانے والے سب سے پہلے ڈاکٹر ، مکرم عبد الرحمن بھٹہ صاحب تھے جنہوں نے اکارے کے کلینک کا آغاز کیا۔جلد ہی اس کی نئی عمارت پر کام شروع ہو گیا۔اور ۱۹۷۲ء میں مکرم عبدالرحیم بکری صاحب نے اس کی عمارت کا سنگ بنیا د رکھا۔یہ کلینک ۱۹۷۴ء میں بند کر دیا گیا۔ایک نیا کلینک بکورو کے مقام پر تھا۔یہ مقام پلیٹوسٹیٹ کے صدر مقام جوس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔۱۹۷۲ ء میں اس کی ابتدا مکرم ڈاکٹر قاضی منور احمد صاحب نے کرایہ کی عمارت میں کی۔عمارت کے اگلے کمرے بطور کلینک استعمال کیے گئے اور عقبی حصہ بطور رہائش استعمال ہوتا تھا۔عمارت بوسیدہ اور نامکمل تھی۔