سلسلہ احمدیہ — Page 138
گیمبیا 138 نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے اجراء سے قبل ہی ۱۹۶۸ء میں یہاں پر کاعور (Kaur) کے مقام پر جماعت کا کلینک کام کر رہا تھا۔اور اس کلینک کو مکرم ڈاکٹر سعید احمد صاحب چلا رہے تھے۔مکرم ڈاکٹر صاحب نے مقامی طور پر قرض لے کر یہ کلینک شروع کیا تھا۔اور ابتدائی طور پر اس نے تین کچے کمروں میں کام شروع کیا تھا۔اور جب حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ۱۹۷۰ء میں مغربی افریقہ کا دورہ فرمایا تو یہ کلینک اتنی بچت کر چکا تھا کہ اس سے اہلِ گیمبیا کے لئے ایک سکینڈری سکول شروع کیا جا سکے۔جب حضرت خلیفۃالمسیح الثالث نے ۱۹۷۰ء میں مغربی افریقہ کا تاریخی دورہ فرمایا تو کیمیا میں قیام کے دوران حضور نے یہاں کے وزیر صحت اور وزیر تعلیم سے بھی ملاقات فرمائی۔اور حضور نے خود بھی یہاں کے حالات کا جائزہ لیا۔اس دورہ میں حضور نے فیصلہ فرمایا کہ یہاں کے دارالحکومت باتھرسٹ ( موجودہ بانجل) میں ایک ٹی بی کلینک اور ایک ڈینٹل کلینک قائم کیا جائے۔حضور کے ارشاد کے تحت مکرم ڈاکٹر انوار احمد خان صاحب نے ڈاڈر کے ٹی ٹی سینیٹوریم میں ٹریننگ حاصل کی اور زندگی وقف کر دی۔Picton Street باتھرسٹ میں ایک چھوٹی سی عمارت کرائے پر حاصل کر کے اگست ۱۹۷۱ء میں نصرت جہاں ٹی بی اینڈ میڈیکل سینٹر کا آغاز کیا گیا۔اسی سال جرمنی کے مشن کے توسط سے یہاں پر ایکس رے پلانٹ اور لیبارٹری کا سامان بھی پہنچ گیا۔اس ہسپتال نے جلد ترقی کی اور آخر کار اس کی اپنی وسیع عمارت تعمیر کی گئی اور یہ ادارہ اب تک اہل گیمبیا کی خدمت کر رہا ہے۔۱۹۸۲ء میں جب اس کی نئی عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی تو ملک کے صدر داؤد کے جوارا صاحب نے اس کا افتتاح کیا۔اس طرح ۱۹۷۱ ء میں باتھرسٹ میں ایک ڈینٹل سرجری بھی قائم کی گئی۔اور طبی خدمت کی جماعتی تاریخ میں یہ پہلی ڈینٹل سرجری تھی۔اور یہ ادارہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک وہاں کے لوگوں کی خدمت کر رہی ہے۔گیمبیا میں جماعت کا چوتھا طبی ادارہ انجوارا میں مکرم ڈاکٹر محمد حفیظ خان صاحب نے ۱۹۷۲ء میں کھولا۔اور جلد ہی ایک عمارت خرید کر اس میں انڈور بھی شروع کر دیا۔یہ جگہ سینیگال کی سرحد کے