سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 137 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 137

137 آپ کی اہلیہ مکرمہ ڈاکٹر کوثر تسنیم صاحبہ تھیں۔اس ہسپتال نے جلد ترقی کی۔ابتداء میں حکومت نے ایک ڈسپنسری کی عمارت جماعت کو کلینک شروع کرنے کے لئے دی تھی اور ڈاکٹر صاحب کی رہائش کا مکان کرائے پر لیا گیا تھا۔۱۹۷۵ء میں ہسپتال نئی تعمیر شدہ عمارت میں منتقل ہو گیا اور مریضوں کو انڈور کی سہولت میسر آئی۔مکرمہ ڈاکٹر کوٹر تسنیم صاحبہ نے یہاں پر میٹرنٹی کلینک قائم کیا جس نے یہاں کی عورتوں کی بہت خدمت کی۔سیرالیون میں جماعت کے طبی ادارے غریب علاقوں میں کھولے گئے تھے۔اور یہاں کے اکثر لوگ علاج کے معمولی اخراجات ادا کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے تھے۔مشن اور جماعت کے مالی وسائل بھی بہت محدود تھے اور زیادہ مالی بوجھ کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ان حالات سے قدرے پریشان ہو کر سیرالیون سے ایک وقف ڈاکٹر صاحب نے حضور کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی کہ یہاں پر خدمت کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے چونکہ حکومت کو اپنی ڈسپنسریوں پر کام کرنے کے لئے ڈاکٹر نہیں ملتے تو حکومت سے بات چیت کر کے وقف ڈاکٹر صاحبان ان ڈسپنسریوں میں ملازمت شروع کر دیں۔اور بعض مقامات کا ذکر کر کے عرض کیا کہ چونکہ یہاں پر جماعت کے میڈ یکل سینٹرز کے قریب ہی گورنمنٹ کی ڈسپنسریاں ہیں۔اس لیے حکومت سے بات چیت کی جاسکتی ہے کہ جہاں پر جماعت کا ہسپتال ہو حکومت وہاں کی بجائے کہیں اور پر ڈسپنسری کی سہولت مہیا کرے۔چونکہ جماعت کے پیش نظر خدمت کے وہ اعلیٰ مقاصد ہوتے ہیں جو حکومت کے تحت کام کرنے سے پورے نہیں ہو سکتے۔اس لئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے انہیں تحریر فرمایا: وو آپ خدمت کیلئے گئے ہیں۔اور شیطان کا کام ہے وسوسے پیدا کرتا ہے۔لاحول اور استغفار بہت کریں۔آمد کم ہو تو بھی فرق نہیں پڑتا۔خدمت پوری ہونی چاہیے۔پیار اور اخوت کے جذبہ کے تحت آپ خدمت کریں گے تو دوسری سب ڈسپنسریاں نا کام ہو جائینگی اور آپ ہی کامیاب ہونگے۔اس لئے ادھر ادھر کے خیالات میں نہ پڑیں اور وقف کی روح کو سمجھیں اور کام کئے جائیں۔دولت بھی انشاء اللہ دے گا مگر وہ اصل مقصد نہیں۔حکومت کی نوکری نہیں کرنی ، آپ نے نہ کسی اور نے۔“