سلسلہ احمدیہ — Page 132
132 فضل عمر فاؤنڈیشن نے اپنا سرمایہ دنیا کی تجارت میں لگایا اور دنیا کے معمول کے مطابق ان کو سات سال میں ۸لاکھ روپیہ نفع ملا۔اور ہم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک تجارت کی اور اس پر کامل بھروسہ کیا اور اس کی مخلوق کی خدمت میں پیسے کے لحاظ سے کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی اور نہ ہمارے دل میں کوئی خوف پیدا ہوا۔چنانچہ وہ جوسارے خزانوں کا مالک ہے اس نے صرف پندرہ مہینے کی کوشش میں (سات سال نہیں ) ۳۵ لاکھ سے زائد ہمیں نفع عطا فرمایا۔ہمارا سرمایہ بھی محفوظ ہو گیا اور خدمت کے کام بھی جاری ہو گئے۔ہم نے پھر یہ نفع اپنے پاس تو نہیں رکھنا تھا۔چنانچہ ہم نے ۳۵ لاکھ میں سے ۳۰ لاکھ کی رقم وہاں کے اداروں (طبی مراکز اور تعلیمی اداروں ) پر خرچ کر دی۔اس وقت ۱۶ ہیلتھ سینٹر مغربی افریقہ کے چار ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔اور گیارہ ہائر سکینڈری سکولز یعنی انٹر میڈیٹ کا لجز کام کر رہے ہیں۔ان کے اوپر ہم نے ایک لاکھ روپیہ خرچ کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ۳۵لاکھ کا نفع پہنچایا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا پورا سرمایہ محفوظ ہے۔تمہیں لاکھ روپے ان ممالک میں آپ نے خرچ کیے اور نفع میں سے ۵ لاکھ سے زیادہ آپ کے پاس محفوظ ہے اور اس پر کوئی زیادہ رصہ بھی نہیں گزرا۔صرف پندرہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا ہے۔پس فرق ہے جو تجارت میں رونما ہوا۔اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا اور بڑا پیار کرنے والا ہے۔ہمیں اس کا شکر کرنا چاہئے۔‘‘ (۹) اب ہم ملک وار جائزہ لیتے ہیں کہ نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے شروع ہونے کے بعد ابتدائی سالوں میں مختلف ممالک میں کس طرح جماعت کی طبی اور تعلیمی خدمات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔غانا اس سکیم کے اجراء سے قبل غانا میں جماعت کا کوئی طبی ادارہ موجود نہیں تھا۔لیکن حالات کا تقاضا تھا کہ یہاں پر خدمت کے میدان میں تیزی سے قدم آگے بڑھایا جائے۔جب حضور کے ارشاد پر احمدی ڈاکٹروں نے وقف کرنا شروع کیا تو صرف نوجوان اس تحریک میں حصہ نہیں لے رہے تھے بلکہ بڑی عمر کے ڈاکٹر صاحبان بھی احمدیت کی خاطر افریقہ جانے کے لئے تیار تھے۔ان خوش نصیبوں میں