سلسلہ احمدیہ — Page 131
131 چنانچہ میں نے اپنے رب کریم پر پورا بھروسہ رکھتے ہوئے وہ تمام سرمایہ جو آپ کی طرف سے میرے ہاتھ میں دیا گیا تھا ” نصرت جہاں سکیم پر خرچ کر دیا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے میں خرچ کرتا گیا۔یہاں سے ڈاکٹر بھیجے۔جن میں سے اکثر بیوی بچوں سمیت بھجوائے گئے تا کہ ان کا وہاں دل لگا رہے اور وہ ٹھیک طرح سے کام کر سکیں۔ایک ڈاکٹر اور ان کے خاندان پر صرف کرائے کے طور پر دس دس پندرہ پندرہ ہزار روپے خرچ آئے۔اس کے علاوہ سکول ٹیچر بھجوائے گئے جن میں سے بعض کے بیوی بچے بھی ساتھ بھجوائے گئے جو سامان ہم ان کو باہر سے بھجوا سکتے تھے وہ بھی بھجوایا یعنی کچھ یہاں سے کچھ غیر ملکوں نے دیا ہوا ہے۔وہ سب ان کو بھجوایا گیا۔اس عرصہ میں ایک لمحہ کے لیے بھی میرے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ میں پیسے خرچ کر رہا ہوں۔ختم ہو جائیں گے تو اور پیسے کہاں سے آئیں گے۔چنانچہ ہر ہفتے خرچ کی جور پورٹیں میرے پاس آتی ہیں میں ان کو ایک دن دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری توجہ اس طرف پھیری گئی کہ پاکستان میں اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو تسلی دلانے کے لیے دس لاکھ روپے کا ریز رو بنا دیا ہے الحمد للہ اور میرا کوئی خرچ ایسا نہیں جو میرے اصل سرمائے کو دس لاکھ سے نیچے لے آئے۔ثم الحمد للہ اور اسی طرح غیر ممالک میں میرا کوئی ایسا خرچ نہیں جو میرے اس ریز رو کو وہاں کے لحاظ سے پندرہ ہزار پونڈ سے نیچے لے آئے۔یعنی اگر کسی ایک مہینے میں یا دو مہینے میں ایک لاکھ روپیہ بھی خرچ کیا اور فی الواقعہ خرچ کیا ہے مثلاً قرآنِ کریم خریدے گئے یا دوسرے اخراجات کرنے پڑے تب بھی اگر دس لاکھ سے رقم ایک ہزار روپے کم ہو گئی تو بڑی جلدی ہی دس لاکھ سے اوپر چلی گئی۔ایک تو یہ چیز ہے جو میرے مشاہدہ میں آئی۔اللہ تعالیٰ اس طرح فضل کرنے والا ہے چنانچہ میں اور بھی دلیر ہو گیا۔چنانچہ میں نے خرچ کیا اور خدا کے نام پر اور اس کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے کے لیے دل کھول کر خرچ کیا۔ہم نے وہاں جو طبی مراکز اور تعلیمی ادارے کھولے ( زیادہ تر طبی مراکز تھے ) ان سے اللہ تعالیٰ نے پتہ ہے کیا نفع دیا؟ ہم نے ان کے اجرا پر اپنے سرمایہ سے ۱۶ اور ۱۵ لاکھ کے درمیان خرچ کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس رقم پر ان اداروں کی بدولت ہمیں پینتیس لاکھ سولہ ہزار چھ سو پینتیس روپے نفع دیا۔الحمد للہ