سلسلہ احمدیہ — Page 130
130 نہیں ہے۔لیکن جو تجارت ہے اس میں دونوں چیزیں ساتھ لگی ہوئی ہیں۔اس میں نفع بھی ملتا ہے اور بعض دفعہ نقصان بھی اُٹھانا پڑتا ہے۔پیسے بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔یعنی سرمایہ بھی جاتا رہتا ہے۔لیکن روحانی دنیا میں انسان اللہ تعالیٰ سے ایسی تجارت کرتا ہے جس میں لَنْ تَبُورَ کی رو سے گھاٹا نہیں پڑتا۔جس میں پیسے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا اس کے علاوہ جو عام نفع ہے وہ بھی ملتا ہے۔پس فرمایا لِيُوَفِّيَهُمْ أَجُورَهُمْ یعنی عام معمول کے مطابق جو نفع ہوتا ہے وہ بھی تمہیں اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا۔لیکن وہ اسی پر بس نہیں کرے گا۔دنیا میں dividend دینے والی جو کمپنیاں ہیں وہ کوئی پانچ فیصدی کوئی آٹھ فیصدی کوئی دس فیصدی کوئی بارہ فیصدی یا زیادہ سے زیادہ پندرہ فیصدی نفع دینے کا اعلان کرتی ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے فرمایا۔یہ بھی میں دوں گا۔اس کے علاوہ جو بندوں کا معمول نہیں اور جو نفع دینے کا میرا معمول ہے وہ بھی میں دوں گا۔اگر تمہارا اخلاص غیر معمولی اخلاص ہوگا تو میری طرف سے تمہارے اموال میں غیر معمولی زیادتی بھی ہوگی۔میں تمہیں بہت زیادہ مال دوں گا۔پس اس آیت کا میرے دماغ پر اثر تھا۔چنانچہ جب یہ رقمیں جمع ہونی شروع ہوئیں تو ایک موقع پر مکرم و محترم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے میرے پاس آکر بڑے اخلاص سے اور بڑے پیار سے اور بڑے اصرار کے ساتھ یہ کہا کہ آپ کے پاس نصرت جہاں ریز روفنڈ کی جو رقم آرہی ہے۔یہ آپ خرچ کر دیں گے تو سرمایہ کم ہو جائے گا۔اس واسطے جس طرح ہم نے فضل عمر فاؤنڈیشن میں کیا ہے اسی طرح آپ بھی کریں۔فضل عمر فاؤنڈیشن کو نفع مند کاموں پر پیسے لگانے کا کافی تجربہ ہو چکا ہے۔اگر آپ چاہیں تو ہماری خدمات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔جمع شدہ رقم تجارت پر لگا دیں۔اس سے جو فائدہ حاصل ہو اس کو اپنی سکیم پر خرچ کریں۔اسی طرح مکرم کرنل عطاء اللہ خان صاحب جو فاؤنڈیشن کے وائس چیئر مین ہیں انہوں نے بھی مجھے یہ مشورہ دیا۔میں نے کہا کہ چوہدری صاحب مکرم ! جن کمپنیوں میں آپ یہ رقم لگائیں گے ، وہ مجھے آٹھ فیصد یا دس فیصد یا بارہ فیصد یا زیادہ سے زیادہ پندرہ فیصد نفع دیں گی۔میں نے بھی ایک تجارت سوچی ہے۔جس کے ساتھ میں تجارت کرنا چاہتا ہوں وہ مجھے سو فیصدی سے بھی زیادہ نفع دے گا۔