سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 129 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 129

129 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت کے پیش نظر ۵۱ لاکھ کی خواہش کی تھی۔مگر اللہ تعالیٰ نے جماعت کو بڑی ہمت عطا فرمائی۔دوستوں نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا چنانچہ ا۵ لاکھ کی بجائے ۵۸ لاکھ کے وعدے ہو چکے ہیں۔اس تحریک میں حصہ لینے والے ۳۲۸۲ پاکستان سے اور بیرونی ممالک میں حصہ لینے والے ۲۰۱۱ دوست ہیں۔پندرہ دسمبر ۱۹۷۲ ء تک وصولی کا نقشہ حسب ذیل ہے۔پاکستان میں ۱۷۷۸۸۳۴ روپے یعنی قریباً اٹھارہ لاکھ روپیہ وصول ہو چکا ہے بیرون پاکستان میں پندرہ لاکھ روپیہ جمع ہو چکے ہیں۔اندرونِ اور بیرونِ پاکستان کی مجموعی رقم جو وصول ہو چکی ہے ۳۲۶۷۴۴۸ روپے بنتی ہے۔ابھی وصولی کا زمانہ ختم نہیں ہوا۔جتنی رقم فضل عمر فاؤنڈیشن میں جماعت نے دی تھی۔اس سے زاید رقم جمع ہو چکی ہے یعنی فضل عمر فاؤنڈیشن کی جو نقد رقم وصول ہوئی تھی وہ ۳۰۷۷۵۸۰ روپے تھی۔جب کہ نصرت جہاں ریز روفنڈ کی وصولی ۳۲لاکھ سے زیادہ ہے۔الحمد للہ علی ذلک۔سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَبَ اللهِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُوْرَةٌ لِيُوَفِّيَهُمُ أَجُوْرَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورُ (فاطر: ۳۱،۳۰) اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ مومن خدائی راہ میں اپنے اموال خرچ کر کے گویا اللہ تعالیٰ سے ایسی تجارت کرتے ہیں جن میں نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بہت زیادہ نفع بھی دیتا ہے۔چنانچہ جماعت نے جو رقم دی وہ بھی گو اللہ تعالیٰ سے تجارت کے مترادف ہے۔لیکن جب وہ رقم ہمارے پاس آئی تو میں نے سوچا کہ اس رقم سے بندوں سے تجارت کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے تجارت کی جائے۔یعنی انفرادی حیثیت میں بھی وہ ایک تجارت ہے۔قرآن کریم نے بھی اس کا نام تجارت رکھا ہے۔اور یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں پیسے کے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔نفع کی بعض شکلیں ہیں جن کا ضائع ہونے کا تو کوئی خطرہ نہیں لیکن جن کے جائز ہونے کا کوئی سوال