سلسلہ احمدیہ — Page 122
122 لمولوں کے لئے جتنے ڈاکٹر اور ٹیچر چاہیں وہاں مہیا کریں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ خوف نہیں ہے کہ یہ رقم آئے گی یا نہیں یا آئے گی تو کیسے آئے گی۔یہ مجھے یقین ہے کہ ضرور آئے گی۔اور نہ یہ خوف ہے کہ کام کرنے کے لئے آدمی ملیں گے یا نہیں ملیں گے۔یہ ضرور ملیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ کام کرو۔خدا کہتا ہے تو یہ اس کا کام ہے لیکن جس چیز کی مجھے فکر ہے اور آپ کو بھی فکر ہونی چاہیئے وہ یہ ہے کہ محض خدا کے حضور قربانی دے دینا کسی کام نہیں آتا جب تک اللہ تعالیٰ اس قربانی کو قبول نہ کر لے۔لاکھوں لاکھ قربانیاں حضرت آدم سے اس وقت تک رد کی گئیں ، جن کا ذکر مختلف احادیث میں موجود ہے۔پس مجھے یہ فکر ہے اور آپ کو بھی یہ فکر کرنی چاہئے۔اس لئے دعائیں کرو اور کرتے رہو کہ اے خدا ہم تیرے عاجز بندے تیرے حضور یہ حقیر قربانیاں پیش کر رہے ہیں تو اپنے فضل اور رحم سے ان قربانیوں کو قبول فرما اور تو ہمیں اپنی رضا کی جنت میں داخل فرما سعی مشکور ہو ہماری وہ سعی نہ ہو جو ہمارے منہ پر مار دی جائے۔حضور نے ارشاد فرمایا تھا کہ میرے انگلستان سے رخصت ہونے سے قبل ہی دس ہزار پونڈ کی رقم جمع ہو جانی چاہئے۔وقت کی کمی کے باعث جماعت کے مبلغ امام صاحب مسجد فضل لنڈن نے عرض کی کہ ابھی یہ رقم جمع نہیں ہوئی۔اگر کچھ وقت مل جائے تو میں دورہ کر کے تحریک کروں گا۔اس پر حضور ہنس پڑے اور فرمایا کہ ایک دن کی مہلت بھی نہیں دوں گا اور رقم جمع ہو جائے گی۔اور فرمایا کہ میں بھی دعا کرتا ہوں اور آپ بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ہماری اس قربانی کو قبول فرمائے۔جمعہ میں جب پہلی مرتبہ مسجد میں اعلان کیا گیا تو اسی وقت سترہ ہزار پونڈ کے وعدے ہو گئے۔مکرم حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے عرض کی کہ بہت سے لوگ جنہوں نے لندن کے باہر سے آنا تھا وہ اس لئے نہیں آسکے کہ یہ کام کا دن تھا۔اتوار کو بہت سے نئے لوگ شامل ہوں گے ،اس لئے آپ اتوار کو خطاب فرمائیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اتوار کے روز بھی خطاب فرمایا اور مزید دس ہزار پونڈ کے وعدے ہو گئے۔جب حضور پین سے واپس لندن پہنچے تو ساڑھے دس ہزار پونڈ کی رقم عملاً جمع ہو چکی تھی۔اور جب حضرت خلیفہ امسیح الثالث پاکستان واپس تشریف لے گئے تو برطانیہ کی جماعت کی طرف سے چالیس ہزار پونڈ کے وعدے کئے جاچکے تھے۔(۲) دوسرا اہم مسئلہ اس تحریک کے لئے وقف کرنے والوں کی ضرورت کا تھا۔بعض احمدی ڈاکٹر