سلسلہ احمدیہ — Page 120
120 مجلس نصرت جہاں کا قیام حضرت خلیفہ المسح الثالث کا پہلا دورہ افریقہ بہت کی وجوہ کی بناپر نہایت اہم تھا ور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے بہت سے بابرکت اور تاریخ ساز نتائج نکلے۔ایک تو یہ پہلا موقع تھا کہ خلیفہ وقت نے اس بر اعظم کا دورہ کیا اور وہاں کے احمدیوں نے اور دوسرے احباب نے حضور سے ملاقات کی اور برکت حاصل کی۔اور حضور نے براہ راست حالات کا جائزہ لیا اور وہاں پر اسلام کی تبلیغ کے لئے مبلغین اور مقامی جماعتوں کی راہ نمائی فرمائی ، خلیفہ وقت کی موجودگی ان ممالک کے احمدیوں کی تربیت کا سبب بنی اور حضور نے طبی اور تعلیمی میدان میں اہل افریقہ کی خدمت کی ضرورت کا از خود جائزہ لیا اور آپ کے ارشادات کے ماتحت اس اہم کام کے لئے منصوبہ بندی کے کام کا آغاز کیا گیا۔جیسا کہ پہلے یہ ذکر آچکا ہے کئی سالوں سے یہاں پر جماعت احمد یہ طبی اور تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی تھی لیکن اب اس بات کی ضرورت تھی کہ اس مہم کو وسعت دی جائے۔چنانچہ حضور نے نائیجیریا میں ایک کمیٹی قائم فرمائی تھی کہ وہ حضور کی ہدایات کی روشنی میں نئے طبی اور تعلیمی ادارے کھولنے کے لئے منصوبہ بنائے۔اسی طرح غانا ، گیمبیا اور سیرالیون میں بھی حضور نے مختلف احباب سے مشورہ فرمایا اور مختلف سربراہان مملکت سے ملاقاتوں کے دوران بھی جماعت کی طبی اور تعلیمی خدمات پر گفتگو ہوئی اور ان سربراہان نے جماعت کی خدمات پر شکر یہ کا اظہار کیا۔اور بہت سے غیر از جماعت معززین نے بھی درخواست کی کہ جماعت احمدیہ ان کے علاقوں میں بھی میڈیکل سینٹر اور سکول کھولے۔جماعت احمد یہ ہر میدان میں خدمت کے جذبے سے کام کرتی ہے لیکن جماعت کے محدود مالی وسائل ہیں۔احمدیوں کی اکثریت غربا پر مشتمل ہے جو اپنی قلیل آمد میں سے مسلسل مالی قربانی کرتے ہیں اور نئے میڈیکل سینٹر اور سکول کھولنے کے لئے کافی سرمایہ کی ضرورت تھی۔جب حضور گیمبیا کے دورہ پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے دل میں ڈالا گیا کہ اب وقت ہے کہ ان ممالک میں کم از کم ایک لاکھ پونڈ خرچ کئے جائیں ، اللہ تعالیٰ ان