سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 111 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 111

111 کر چکا ہوں۔مجھے اہل افریقہ بہت پسند آئے ہیں۔ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہے اور دلوں میں سادگی اور محبت ہے۔میں نے اس دورے کو نہایت خوش کن اور آرام دہ پایا ہے۔حضور سے ایک صحافی نے پوچھا کہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے؟ حضور نے مسکرا کر جواب دیا ” آپ لوگوں سے ملاقات۔نیز مختلف ممالک کے سربراہان سے مشورہ کہ جماعت احمد یہ ان ممالک کے باشندوں کی کس رنگ میں بہتر خدمت کر سکتی ہے۔ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ یہاں لوگ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں تو احمدی ہاتھ باندھ کر کیوں نماز پڑھتے ہیں؟ حضور نے فرمایا کہ یہ فقہی اختلاف ہے۔ان ممالک میں حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی فقہ پر تعامل ہے۔ہمارے ہاں حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کی فقہ پر عمل ہوتا ہے۔چاروں ائمہ فقہ کا باہم اختلاف ہے۔لیکن اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ فقہ میں اختلاف جائز ہے۔بہر حال یہ اختلاف فروعی ہے بنیادی نہیں۔ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں پہلے دوسروں سے مشورہ کرتا ہوں، خود سوچتا ہوں پھر اللہ تعالیٰ کے حضور انشراح صدر اور رہنمائی کے لئے دعا کرتا ہوں تب کسی نتیجہ پر پہنچتا ہوں۔پریس کانفرنس کے بعد ریڈیو سیرالیون کے نمائندے نے علیحدہ انٹرویو کے لئے درخواست کی۔حضور نے اجازت مرحمت فرمائی تو اس نے بہت سے سوالات کئے۔نمائندہ ریڈیو نے سوال کیا کہ مذہب کا مستقبل کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ مذہب کا مستقبل بہت ہی شاندار ہے۔محبت ہمیشہ نفرت پر غالب آیا کرتی ہے۔مذہب محبت سکھاتا ہے اور محبت پر قائم ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہماری محبت ساری دنیا پر غالب آکر رہے گی۔شام کو حضور رات گئے تک مجلس عرفان میں تشریف فرمار ہے جس میں شریک سیرالیون کے احمدی پروانوں کی طرح حضور کے گرد جمع تھے۔(۲۲) اگلے روز حضرت خلیفہ اسیح الثالث" نے سیرالیون کے قائم مقام گورنر جنرل بنجا تیجان سی ( Banja Tejan Sie) سے ملاقات فرمائی۔قائمقام گورنر جنرل نے حضور کا استقبال کرتے ہوئے کہا It is a blessing your coming here‘۔اس ملاقات میں حضور کے ہمراہ مکرم و محترم مولوی محمد صدیق صاحب گورداسپوری امیر و مشنری انچارج سیرالیون مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب، مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ، احمدی پیرا ماؤنٹ چیف مکرم ناصرالدین گمانگا صاحب ، کرم محمد نذیر صاحب اور مکرم چوہدری محمدعلی صاحب شامل تھے۔قائمقام گورنر جنرل