سلسلہ احمدیہ — Page 577
577 حامی ہو جائے گا۔اگر مذہبی اور اخلاقی پہلو کو ایک طرف بھی رکھا جائے اور سیاسی حقائق پر توجہ مرکوز رکھی جائے تو کم از کم ان سیاستدانوں اور حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ بھٹو صاحب کے حالات کا بغور مطالعہ کریں۔خود ان حقائق کا جائزہ لیں۔بھٹو صاحب کوئی معمولی سیاستدان نہیں تھے۔وہ بہت ذہین آدمی تھے۔طویل سیاسی تجربہ رکھتے تھے۔ان کی مثبت خدمات سے بھی انکار نہیں۔وہ ملک میں مقبول ترین لیڈروں میں سے تھے۔اس بات سے بھی انکار نہیں کہ آج جب کہ ان کی موت کو قریباً تمیں سال گزر چکے ہیں ان کے نام پر ووٹ دیئے جاتے ہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بھٹو صاحب نے سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے آئین میں ترمیم کی اور جماعت احمدیہ کے بنیادی حقوق کی بھی پروا نہیں کی گئی، انہیں بری طرح پامال کیا گیا۔اس کا نتیجہ کیا نکلا کیا ملا خوش ہو گیا۔کچھ ہی سالوں میں ان کے خلاف اس طبقہ نے ایک ایسی مہم چلائی کہ کوئی گالی ہوگی جو کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نہ دی گئی۔بالآخر ان کو اقتدار سے محروم کر دیا گیا۔اور قتل کے الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا۔بھٹو صاحب نے جیل میں اپنی کتاب میں لکھا کہ جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی جماعتیں بیرونِ پاکستان ہاتھوں سے مددلیکر ان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔پھر انہیں پھانسی چڑھا دیا گیا۔پھر نا معلوم حالات میں ان کے دونوں بیٹے قتل کر دیئے گئے اور پھر ان کی بیٹی اور سیاسی وارث ملک کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو انہیں مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا۔آخر اس فیصلہ سے بھٹو صاحب کو کیا ملا؟ یہ ایک تاریخی سبق ہے کہ ملا کبھی کسی کا نہیں ہوتا۔اور نہ مذہبی مسائل کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے کوئی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ ان تاریخی حقائق کا بار بار مطالعہ کریں۔خود ان کا جائزہ لیں۔۱۹۷۴ء کے حالات قلمبند کرتے ہوئے ہم نے اس وقت کے سیاسی قائدین کے انٹرویو بھی لئے تھے۔ان میں سے ایک انٹر ویو معراج محمد خان صاحب کا بھی تھا۔یہ صاحب ایک وقت میں بھٹو صاحب کے قریبی سیاسی رفیق تھے۔بھٹو صاحب نے ایک مرتبہ ان کو اپنا سیاسی جانشین بھی قرار دیا تھا۔وہ بھٹو صاحب کی کابینہ میں وزیر بھی رہے۔لیکن پھر بھٹو صاحب کے ان سے اختلافات ہو گئے اور بھٹو صاحب نے ان کو انتقاماً جیل میں ڈال دیا۔جب یہ انٹرویو ختم ہوا تو انہوں نے آخری بات یہ کہی اور یہ بات انہوں نے اس انٹرویو میں بہت مرتبہ کہی تھی کہ آپ جہاں دوسری باتیں لکھیں یہ ضرور لکھیں کہ وہ بہت ذہین آدمی تھے