سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 485 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 485

485 کاملہ اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ دنیا کی اصلاح اور دنیا کو قرآنِ کریم کے نور سے منور کرنے کے لئے نبی کو آنا چاہئے اور کب یہ کہ وہ دین اسلام کی تجدید کے لئے مجددین کو دنیا میں بھیجتا ہے۔یہ ایسی بات نہیں ہے کہ دنیا کی کوئی اسمبلی اور وہ بھی پاکستان کی اسمبلی اس بات کا فیصلہ کرے کہ دنیا میں نبی آنا چاہئے یا مجدد کا ظہور ہونا چاہئے۔اس کے بعد ایک بار پھر جہاد کے موضوع پر سوالات شروع ہوئے۔حضور نے فرمایا کہ جہاد کبیر تو جاری ہے لیکن مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جہاد صغیر کی شرائط پوری نہیں ہوئیں۔ایک سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ اگر جہاد صغیر کی شرائط پوری ہوں تو احمدی بھی باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ابھی یہ موضوع جاری تھا کہ ۲۱ اگست کی کارروائی ختم ہوئی۔۲۲ اگست کی کارروائی ۲۲ / اگست کو بھی اسی موضوع پر گفتگو جاری رہی کہ جہاد بال کا زمانہ اس وقت نہیں ہے۔کب تک یہ جہاد ملتوی رہے گا۔ایسا کیوں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔زیادہ تر پرانے سوالات ہی دہرائے جار ہے تھے۔صرف ایک حدیث اس ساری بحث کا فیصلہ کر دیتی ہے۔اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے مسیح موعود کی آمد کی نشانیاں بیان فرمائیں اور دیگر نشانیوں کے علاوہ آنحضرت ﷺ نے ایک نشانی يَضَعُ الحَرْب کی بھی بیان فرمائی ہے یعنی مسیح موعود کی آمد کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہوگا کہ وہ جنگوں کا خاتمہ کرے گا۔(۹۸) یہ اعتراض بھی جماعت احمدیہ کے خلاف بڑے زور وشور سے پیش کیا جاتا ہے کہ جماعت احمد یہ جہاد کی قائل نہیں اور یہ ایک اہم رکن اسلام کا ہے اور یہ جماعت اس کی منکر ہے۔دیگر اعتراضات کی طرح یہ اعتراض بھی معقولیت سے قطعاً عاری ہے۔اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جماعت احمدیہ قطعاً جہاد کی منکر نہیں ہے بلکہ قرآن کریم اور نبی اکرم ﷺ کے بیان کردہ معیار کے مطابق پوری دنیا میں حقیقی معنوں میں جماعت احمدیہ ہی پوری دنیا میں جہاد کر رہی ہے جب کہ جماعت احمد یہ پر الزام لگانے والے اس اہم فرض سے مسلسل غفلت برت رہے ہیں۔لیکن یہ بحث اٹھانے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جہاد کہتے کسے ہیں۔قرآن کریم نے اس کے بارے میں کیا تعلیم دی ہے