سلسلہ احمدیہ — Page 458
458 پھر ۱۴ جنوری کی کارروائی میں یہ سوال ایک اور رنگ میں کیا گیا۔تحقیقاتی عدالت جو کیانی اور منیر پر مشتمل تھی ، نے دریافت کیا۔" ” کیا ایک سچے نبی کا انکار کفر نہیں ؟“ مقصد یہ تھا کہ جب آپ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سچا نبی سجھتے ہیں تو پھر کیا ان کا انکار کرنے والوں کا کفر کہیں گے؟ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا: 66 ”ہاں یہ کفر ہے۔لیکن کفر دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک وہ جس سے کوئی ملت سے خارج ہو جاتا ہے۔دوسرا وہ جس سے وہ ملت سے خارج نہیں ہوتا۔کلمہ طیبہ کا انکار پہلی قسم کا کفر ہے۔دوسری قسم کا کفر اس سے کم درجہ کی بد عقیدیوں سے پیدا ہوتا ہے۔“ اور ہم پہلے ہی یہ بیان کر چکے ہیں کہ احادیث میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، اور اپنے باپ سے بیزار ہونے والے ،نسب پر طعن کرنے والے، میت پر چلا کر رونے والے ، ترک نماز کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے والے کو کافر اور ان کے اعمال کو کفر کہا گیا ہے۔لیکن یہ اس قسم کا کفر ہے جس سے ایک شخص ملت سے خارج نہیں ہوتا۔اور اس کے بعد مولوی حضرات نے بھی حضرت خلیفہ امسیح الثانی سے اسی قسم کے سوالات کئے تھے اور حضور نے مذکورہ بالا اصول کی بنیاد پر ہی ان کے جوابات دیئے تھے۔اور اس بات پر پروفیسر غفور احمد صاحب کو تو بالکل اعتراض نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ خود ان کی جماعت کے بانی اور ان کے قائد مودودی صاحب نے تو اس بات پر بہت برہمگی کا اظہار کیا تھا کہ مسلم لیگ ہر آدمی کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہے اپنی جماعت کا رکن بنا لیتی ہے۔ان کے نزدیک ہر مسلمان کو حقیقی مسلمان سمجھ لینا بڑی بنیادی غلطی تھی۔چنانچہ وہ اپنی کتاب مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش د سوئم میں لکھتے ہیں۔ایک قوم کے تمام افراد کو محض اس وجہ سے کہ وہ نسلاً مسلمان ہیں حقیقی معنی میں مسلمان فرض کر لینا اور یہ امید رکھنا کہ ان کے اجتماع سے جو کام بھی ہوگا اسلامی اصول پر ہوگا پہلی