سلسلہ احمدیہ — Page 457
457 مناسب نہ ہوگا۔اس پر انہوں نے جواب دیا کہ آپ مطالبہ کریں ہم اس مطالبہ کی حمایت کریں گے۔اس پر ہم نے اپنے سوال کی طرف واپس آتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ بات پہلے بھی پڑھی تھی۔لیکن جب کاروائی پڑھی تو اس میں یہ بات as such نہیں تھی۔اس پر پروفیسر غفور صاحب نے فرمایا کارروائی پڑھ کہاں سے لی آپ نے۔مجھے اس بات پر حیرت ہے۔مجھے available نہیں۔میں ممبر رہا ہوں قومی اسمبلی کا۔سینٹ کا۔“ اس پر ہم نے انہیں یاد دلایا کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین نے تو اس کو شائع بھی کر دیا ہے۔(اگر چہ مخالفین نے یہ کارروائی مسخ کر کے اور تبدیل کر کے شائع کی ہے اور ہماری تحقیق کا ماخذ یہ تحریف شدہ اشاعت نہیں تھی۔) اس پر پروفیسر غفور صاحب نے فرمایا کہ شائع کی ہوگی پر وہ Authentic نہیں ہے۔اس پر ہم نے پھر سوال دہرایا کہ کیا آپ کے نزدیک مخالفین نے جو اشاعت کی ہے وہ Authentic نہیں ہے۔اس پر انہوں نے اپنے اسی موقف کا اعادہ کیا۔بہت سے سیاستدانوں کی طرف سے جماعت کی طرف جو جواب منسوب کیا گیا اس کے متعلق فیض کے الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے اور یہ بھی مد نظر رہنا چاہئے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ خلیفہ وقت سے ایسا سوال کیا گیا ہو اور امامِ جماعت احمدیہ نے مذکورہ جواب دیا ہو۔جب ۱۹۵۳ء کے فسادات کے بعد تحقیقاتی عدالت قائم ہوئی اور اس نے کارروائی شروع کی تو ۱۳ جنوری ۱۹۵۴ء کی کارروائی میں تحقیقاتی عدالت کی کارروائی میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے سوال کیا گیا: اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد صاحب کے دعاوی پر واجبی غور کرنے کے بعد دیانتداری سے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ آپ کا دعویٰ غلط تھا تو کیا پھر بھی وہ مسلمان رہے گا ؟“ اس پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے فرمایا۔جی ہاں عام اصطلاح میں وہ پھر بھی مسلمان سمجھا جائے گا۔“