سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 414 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 414

اس کی اپنی شریعت آگئی۔“ 414 اب اس اسمبلی اور اٹارنی جنرل صاحب کی دینی معاملات میں یہ علمی حالت تھی کہ ان قابل حضرات کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ حضرت عیسی شرعی نبی نہیں تھے بلکہ حضرت موسیٰ کی شریعت کی پیروی کرتے تھے۔اور اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے تھے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون مسلمان ہے اور کون مسلمان نہیں ہے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کشف پڑھ کر اعتراض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نعوذ باللہ خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔یہ کشف ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں ہی تحریر کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف کتاب البریہ میں تحریر فرماتے ہیں :۔” میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں۔یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو یہاں تک کہ اس کا کوئی نام ونشان باقی نہ رہ گیا ہو۔اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔سونہ تو میں میں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی۔۔۔۔(۶۷) اس پر معرفت کشف کا بیان تو جاری رہتا ہے لیکن اتنی ہی عبارت کا مطالعہ ہی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ اس کشف میں فنا فی اللہ ہونے کا ذکر ہے ، اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھوئے جانے کا ذکر