سلسلہ احمدیہ — Page 412
412 آگے تک جاری رہی۔اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ سوال کرنے والے جانتے تھے کہ انہیں اب تک عملاً کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن وہ محسوس کرتے تھے کہ اگر یہ کارروائی اور زیادہ جاری رہے تو انہیں مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔اگلے روز جب کارروائی شروع ہوئی تو حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اس اعتراض کا جواب دینا شروع کیا جو ایک روز قبل کیا گیا تھا۔اور یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کشف پر کیا گیا تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ دکھایا گیا تھا کہ حضرت محمد ، حضرت علیؓ، حضرت حسنؓ ، حضرت حسین اور حضرت فاطمہ تشریف لائے ہیں۔(اور ان میں سے کسی ایک نے اور حضرت مسیح موعود نے تحریر فرمایا تھا کہ یاد پڑتا ہے) حضرت فاطمہ نے مادر مہربان کی طرح آپ کا سر اپنی ران پر رکھا۔اس کے بعد ایک کتاب آپ کو دی گئی اور آپ کو بتایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے جس کو علی نے تالیف کیا ہے اور اب علی وہ تفسیر تجھے دیتا ہے۔اور اس مبارک کشف سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریرفرمایا کہ افاضہ انوارالہی میں محبت اہل بیت کو بھی عظیم دخل ہے۔اور جو شخص حضرتِ احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے۔وہ انہی طیبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔اب اگر اس پاکیزہ بیان اور با برکت کشف سے کوئی غلط اور قابل اعتراض مطلب اخذ کرتا ہے تو سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مخالف تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ اہلِ بیت کی محبت سے اس کا کوئی دور کا تعلق نہیں بلکہ اس کا یہ اعتراض صرف اس کے گندے ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔حضرت فاطمہ کو یا آنحضرت ﷺ کو اگر رویا میں دیکھا جائے تو یہ نہایت ہی بابرکت رؤیا ہے۔اس روز یعنی ۱۸ اگست کو جب کمیٹی کی کارروائی کا آغاز ہوا تو حضور نے علم التعبیر کا ذکر فرمایا اور بعض حوالے سنائے مثلاً اس میں سے ایک رؤیا حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کا تھا۔اس میں آپ نے دیکھا تھا کہ حضرت عائشہ نے آپ کو اپنے سینے کے ساتھ لگایا ہے اور آپ نے حضرت ام المومنین کا دودھ پیا ہے۔اور حضرت رسول کریم ﷺے مخاطب ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ یقیناً ہمارا بیٹا ہے۔(۶۶) پھر آپ نے اشرف علی تھانوی صاحب کا ایک شائع شدہ خواب سنایا جس میں انہوں نے کہا تھا