سلسلہ احمدیہ — Page 403
403 اور یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف یہ فسادات شروع ہوئے ہیں۔جب کہ ارباب حکومت جانتے تھے کہ یہ الزام جھوٹا ہے۔وہ صرف لا یعنی الزامات عائد کر کے دھوکا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔اور حقائق پاکستان کے عوام سے پوشیدہ رکھے جارہے تھے۔ہاں جہاں تک جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے جنرل یعنی جنرل افتخار جنجوعہ صاحب کا تعلق تھا تو یہ پاکستان کی تاریخ کے واحد جنرل تھے جنہوں نے دوران جنگ جامِ شہادت نوش کیا اور کسی جرنیل کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی اور اس رپورٹ سے یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس جنگ کے دوران ان میں سے اکثر اس سعادت کے لیے مشتاق بھی نہیں تھے۔اور حمود الرحمن رپورٹ میں جہاں باقی اکثر جرنیلوں پر شدید تنقید کی گئی ہے اور انہیں مجرم قرار دیا گیا ہے وہاں جنرل افتخار جنجوعہ شہید کے متعلق اس رپورٹ میں A capable and bold commander کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔اور کسی جرنیل کے متعلق یہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے۔ہاں ان کی کارکردگی کا بھی ناقدانہ جائزہ لیا گیا ہے اور اس میں بھی بعض امور کی نشاندہی کی گئی ہے۔لیکن فرق دیکھیں کہ باقی جرنیلوں پر یہ تنقید کی گئی کہ وہ لڑنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے انہوں نے موجود وسائل کا بھی صحیح استعمال نہیں کیا، وہ قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔وہ مرکزی کمان کو بھی غیر ضروری طور پر سیاہ تصویر دکھاتے رہے، اپنے فرائض چھوڑ کر چلے گئے وہاں جنرل جنجوعہ شہید پر یہ تبصرہ کیا گیا کہ انہیں جس علاقہ پر قبضہ کرنے کا کہا گیا تھا وہ اس سے زیادہ علاقہ پر قبضہ کرنے کے لیے کوشاں تھے اور جی ایچ کیو کو چاہئے تھا کہ انہیں اس سے روکتا اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بجائے علاقہ دشمن کے حوالہ کرنے کے دشمن کے علاقہ پر قبضہ کیا تھا۔فرق صاف ظاہر ہے۔(۵۹) اس حب الوطنی کا صلہ احمدیوں کو یہ دیا گیا کہ قومی اسمبلی میں یہ الزام لگایا گیا کہ ملک کو دولخت کرنے کے ذمہ دار احمدی تھے۔جب کہ اس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بھی جسے خود حکومت نے قائم کیا تھا اس الزام کو صرف ایک تیسرے درجہ کا جھوٹ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے دو ایسے اعتراضات کیے جو ایک طویل عرصہ سے مخالف مولویوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔اور وہ یہ کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود نے اپنی بعض تحریروں میں حضرت عیسی اور حضرت حسین کی توہین کی ہے۔اور اس نام نہاد الزام کو ثابت کرنے کے لیے وہ