سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 309 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 309

309 پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب اس بات کا اظہار کر چکے تھے کہ جب قومی اسمبلی بجٹ کے معاملات سے فارغ ہوگی ، قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا تا کہ اس دیرینہ مسئلہ کا کوئی حل نکالا جائے۔۳۰ جون ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی میں بجٹ کی کارروائی ختم ہوئی ، اس موقع پر وزیر اعظم بھی ایوان میں موجود تھے۔اس مرحلہ پر اپوزیشن کے ممبران نے ایک قرارداد پیش کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیرو کاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اس پر وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب نے کہا کہ حکومت اصولی طور پر اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔وزیر قانون نے تجویز دی کہ کارروائی کو دو گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا جائے تاکہ حکومت اپوزیشن کے مشورہ کے ساتھ کوئی قرارداد تیار کر سکے یہ تجویز منظور کر لی گئی۔ان دو گھنٹوں میں سپیکر کے کمرہ میں ایک میٹنگ ہوئی۔جس میں وزیر قانون پیرزادہ صاحب، سیکریٹری قانون محمد افضل چیمہ صاحب، پنجاب کے وزیر اعلیٰ حنیف رامے صاحب اور اپوزیشن کے ممبران میں سے مفتی محمود صاحب، شیر باز مزاری ،صاحب، شاہ احمد نورانی صاحب، غلام فاروق صاحب اور سردار شوکت حیات صاحب نے شرکت کی۔اپوزیشن کے ممبران نے یہ واضح کیا کہ وہ ہر قیمت پر اپنی قرار داد کو ایوان میں پیش کریں گے۔اس وقفہ میں مشورہ کے بعد ایوان کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔اس میں وزیر قانون نے قرار داد پیش کی کہ ایک سپیشل کمیٹی قائم کی جائے جو ایوان کے تمام اراکین پر مشتمل ہو۔اور سپیکر اسمبلی اس کے چیئر مین کے فرائض ادا کریں۔اس کمیٹی کے سپر دمندرجہ ذیل تین کام ہوں گے۔۱) اسلام میں اس شخص کی کیا حیثیت ہے جو حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی نہ مانتا ہو۔۲) ایک مقررہ وقت میں ممبران کمیٹی سے قرارداد میں اور تجاویز وصول کرنا اور ان پر غور کرنا۔غور کرنے ، گواہوں کا بیان سننے اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد اس مسئلہ کے متعلق تجاویز مرتب کرنا۔اس کے ساتھ وزیر قانون نے کہا کہ اس کمیٹی کی کارروائی بند کمرہ میں (In Camera ) ہوگی۔ایوان نے متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور کر لی۔اس کے بعد اپوزیشن کے ۲۲ اراکین کے دستخطوں کے ساتھ ایک قرار داد پیش کی گئی۔ایوان میں اس قرار داد کو شاہ احمد نورانی صاحب نے پیش کیا اس پر