سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 299 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 299

299 مرکزی حکومت کے سربراہ تو احمدی نہیں تھے۔یہ کس طرح ممکن ہوا کہ احمدی ان میں ناجائز تصرف حاصل کرتے گئے۔اور اگر وزارت خارجہ میں بھی ایسا ہوا تھا تو جماعت اسلامی نے اس کا ثبوت کیا پیش کیا تھا ؟ جماعت اسلامی اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکی تھی۔وہ کون سے لوگ تھے جن کو سفارت خانوں میں ناجائز طور پر بھرتی کیا گیا تھا؟ جماعت اسلامی تحقیقاتی عدالت میں کوئی ایک نام بھی پیش کرنے سے قاصر رہی تھی۔اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا تھا کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے تعلقات کی بنا پر بھرتیاں کی تھیں۔کوئی ایک مثال نہیں پیش کی گئی تھی۔اس لئے کہ اس بات کا کوئی ثبوت تھا ہی نہیں یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔جنرل ضیاء کے دور میں پروفیسر غفور صاحب نے بھی وزارت قبول کی تھی۔اس وقت ان کے پاس موقع تھا کہ اس وقت احمدیوں کی مثالیں پیش کرتے جنہیں دوسروں کا حق مار کر میرٹ کے خلاف ملازمتیں دی گئی تھیں۔لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے کیونکہ احمدیوں کو تو کئی دہائیوں سے ان کے جائز حقوق سے بھی محروم کیا گیا ، ان کو میرٹ کے خلاف ملازمتیں دینے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔یہ لوگ نہ ۱۹۵۳ء میں اس بات کا کوئی ثبوت پیش کر سکے، نہ ۱۹۷۴ء میں اس الزام کی سچائی ثابت کرنے کے لئے کوئی مثال پیش کر سکے اور نہ آج تک اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے کوئی معقول ثبوت پیش کیا گیا ہے۔نصف صدی سے زائد عرصہ بیت گیا بغیر ثبوت کے ایک بات ہی دہرائی جا رہی ہے کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے پچاس سال پہلے کچھ احمدیوں کونا جائز طور پر وزارت خارجہ میں بھرتی کر لیا تھا۔اس دوران Associated Press نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے انٹرویو لیا۔اس انٹرویو میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ ان فسادات کے پیچھے حکومت پاکستان کا ہاتھ کارفرما ہے۔آپ نے فرمایا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں تباہ و برباد نہیں کر سکتی۔دنیا کے پچاس ممالک میں احمدیت موجود ہے۔اگر پاکستان میں احمدی ختم بھی کر دیئے جائیں تو باقی دنیا میں موجود رہیں گے۔(۲۰) جماعت کے مخالف مولویوں نے ۱۴ جون ۱۹۷۴ ء کو ایک ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی ملکی اخبارات میں مختلف تجارتی تنظیموں اور مجلس تحفظ ختم نبوت اور دوسری تنظیموں کی طرف سے اعلانات شائع ہورہے تھے کہ قادیانیوں کا مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے۔ان سے کسی قسم کے مراسم نہ رکھے جائیں اور نہ ہی کسی قسم کا لین دین کیا جائے۔اور ملک کا ایک حصہ اس مہم میں حصہ بھی لے رہا