سلسلہ احمدیہ — Page 289
289 کے بعد ایک جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کیا تو ان کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں تھا بلکہ ان کا شمار احمدیت کے اشد ترین مخالفین میں سے ہوتا تھا۔جب ہم نے جسٹس صمدانی صاحب سے اس الزام کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جہاں تک مجھے یاد ہے اس بات پر کوئی توجہ نہیں کی گئی تھی۔جسٹس صدانی صاحب کی یہ بات تو درست ہے کہ اس بات پر شاید ٹریبونل نے کوئی توجہ نہیں کی تھی لیکن یہ جھوٹے الزامات لگا کر اور انہیں نمایاں کر کے شائع کر کے ملک میں احمدیوں کے خلاف فسادات تو بھڑکائے جارہے تھے۔ایک اور صاحب نے تو ایک روز ٹریبیونل کے روبرو یہ بیان بھی دیا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے یہ اعلان کیا تھا کہ خدام الاحمدیہ اسلام کی فوج ہے اور ہم بہت جلد اقتدار میں آنے والے ہیں (مشرق ۲۷ جون ۱۹۷۴ء ص ۱)۔اس قسم کے رویہ کے متعلق ہمارے ساتھ انٹرویو میں جسٹس صمدانی صاحب نے فرمایا کہ چند گواہوں کی کوشش تھی کہ ٹربیونل کو احمدیوں کے خلاف متعصب کر دیا جائے لیکن میں متعصب نہیں ہوا۔حکومت کی طرف سے اس موقع پر فرقہ وارانہ خبروں کی اشاعت پر پابندی لگائی گئی اور جب صوبائی اسمبلی میں اس قدم کے خلاف تحاریک التوا پیش ہوئیں تو سپیکر نے انہیں خلاف ضابطہ قرار دے دیا۔لیکن بڑی احتیاط سے یہ خبریں بھی نہیں شائع کی جارہی تھیں کہ ملک بھر میں احمدیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور کئی احمدیوں کو وحشیانہ انداز میں شہید کیا جا رہا ہے۔تمام اخبارات نے اس معاملہ میں ایک مصلحت آمیز خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔(۱۲) یکم سے پندرہ جون تک کے حالات یکم جون تک حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کا رویہ واضح ہو کر سامنے آچکا تھا۔اور اب مفسدین محسوس کر رہے تھے کہ انہیں کھلی چھٹی ہے۔اس روز ۴۱ مقامات پر فسادات ہوئے سکھر اور پشاور کے علاوہ باقی سب شہر اور قصبے صوبہ پنجاب کے تھے۔یوں تو پورے صوبے میں فسادات کی آگ لگی ہوئی تھی لیکن اس روز سب سے بڑا سانحہ گوجرانوالہ میں پیش آیا۔یہاں پر سول لائن اور سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاوہ باقی سب علاقوں میں احمدیوں کے مکانوں اور دوکانوں کو نذر آتش کیا گیا۔بلوائیوں نے پہلے محمد افضل صاحب اور پھر ان کے بیٹے محمد اشرف صاحب کو بڑے درد ناک انداز میں شہید کیا۔