سلسلہ احمدیہ — Page 246
246 بہت مفید ہوگا۔اس کے لئے انہیں یہ خیال آیا کہ جو حکمران اس وقت حجاز پر حکومت کر رہا ہے اور ان کے ہاتھ میں بھی ہے اسے اس کام کے لئے کھڑا کیا جائے۔اس وقت حجاز پر شریف مکہ شریف حسین کی حکومت تھی اور اس وقت اس کے انگریز حکومت سے قریبی تعلقات بھی تھے۔اور چونکہ حجاز میں مکہ اور مدینہ واقع ہیں اس لئے حجاز سے وابستہ ہر چیز کے لئے ان کے دل میں ایک نرم گوشہ پیدا ہونا قدرتی بات تھی۔چنانچہ انڈیا آفس کے ایک افسر کر یو Crewe نے ۱۳ را پریل ۱۹۱۵ء کو حکام بالا کو جو رپورٹ بھجوائی اس میں لکھا : "۔۔۔میں نہیں سمجھتا کہ استنبول پر قبضہ ہو جانے کے بعد شریف مکہ حسین سے متعلق ہماری پالیسی کی وجہ سے ہمیں کوئی پریشانی ہوگی۔ہمیں چاہئے کہ کہ ہم اسے ترکی کی غلامی سے نجات دینے کے لئے ہمارے بس میں جو کچھ ہے وہ کریں۔لیکن اس سلسلے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور کسی کو یہ پتہ نہ چلے کہ ہم اسے مقام خلافت پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ہندوستان میں آج کل پان اسلام ازم کی جو تحریک چلی ہوئی ہے اس کا منبع اور مرکز استنبول ہے۔یہاں کے اسلام پسند عناصر اس بات کو قطعی پسند نہیں کریں گے کہ خلافت عثمانیوں کے ہاتھ سے نکل جائے۔لیکن شریف مکہ یا کوئی اور عرب سنی لیڈرا اپنے آپ کو عثمانیوں سے آزاد کر کے خلافت جیسے متبرک عنوان کو حاصل کر لے تو مسلمان رائے عامہ اور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بھی ان کا ساتھ دینے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں رہ جائے گا۔۔۔۔لیکن اس کے باوجود میرا خیال یہ ہے کہ آئندہ مسئلہ خلافت کی بنا پر مسلمانوں میں پھوٹ پڑ سکتی ہے۔در حقیقت دیکھا جائے تو اس پھوٹ میں ہمارا سراسر فائدہ ہی ہے۔“ ( بحوالہ تحریک خلافت تحریر ڈاکٹر میم کمال او کے، باسفورس یو نیورسٹی استنبول، ترجمہ ڈاکٹر نثار احمد اسرار۔سنگ میل پبلیکیشنز لاہور ۱۹۹۱ء - ص ۶۲ و ۶۳) جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا جب شریف حسین نے سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کی تو ہندوستان کے مسلمانوں میں اس کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کیا۔اس وقت حجاز پر شریف مکہ کی اور نجد کے علاقہ پر سعودی خاندان کی حکومت تھی۔جب شریف مکہ نے یہودیوں کے فلسطین میں آباد ہونے کے خلاف رد عمل دکھایا تو برطانوی حکومت نے ان سے اپنی حمایت کا ہاتھ کھینچ لیا اور سعودی خاندان نے حجاز پر بھی