سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 226 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 226

226 پس اس سولہ سال کے عرصہ میں ہم اسلام کے تمام فرقوں کو بڑی شدت کے ساتھ، نہایت عاجزی کے ساتھ ، بڑے پیار کے ساتھ ، بڑی ہمدردی کے ساتھ اور غم خواری کے ساتھ یہ پیغام دیتے ہیں اور دیتے رہیں گے کہ جن باتوں میں ہم متحد ہیں ان میں اتحاد عمل بھی کرو اور اسلام سے باہر کی دنیا میں توحید خالص کے پھیلانے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت کو منوانے اور قرآنِ کریم کی شان کے اظہار کے لئے اکٹھے ہو کر کوشش کرو اور باہر جا کر آپس میں نہ لڑو تا کہ اسلام کو فائدہ پہنچے۔پھر اللہ تعالیٰ جن کے ذریعہ زیادہ کام لے گا یا جو دوسروں کو زیادہ قائل کرلیں گے یا جن سے ان کو زیادہ فیض پہنچے گا وہ نمایاں ہو کر سامنے آجائیں گے۔اس لئے نتیجہ خدا پر چھوڑ دو۔پس اتحاد عمل کرو، ان بنیادی اصولوں پر جن میں ہمارا عقیدہ ایک ہے۔پس یہ پیغام ہے اس منصوبہ کا جو آج میں ساری دنیا کو دے رہا ہوں۔‘ (۵) اس عظیم الشان منصو بہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس بات کی ضرورت تھی کہ دعاؤں کے علاوہ پوری دنیا کے احمدی اللہ تعالیٰ کے حضور بڑے پیمانے پر مالی قربانی پیش کریں۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اسی تقریر میں اعلان فرمایا: پس آج میں اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے اڑھائی کروڑ روپے کی اپیل کرتا ہوں لیکن میں اپنے رب کریم پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے آج ہی یہ اعلان بھی کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان سولہ سالوں میں ہمارے اس منصوبہ کے لیے پانچ کروڑ روپے کا انتظام کر دے گا۔(۶) صد سالہ جو بلی کے منصوبہ کے لیے دعاؤں کی تحریک الہی جماعتوں کے منصوبے دنیاوی منصوبوں سے بالکل علیحدہ شان رکھتے ہیں۔ان میں اصل روح اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل کرنا ہوتی ہے اور اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اس کی مدد کے لیے عاجزانہ دعائیں کی جائیں۔اگر یہ پہلو نظر انداز کر دیا جائے تو الہی جماعتوں کے منصوبوں کی روح ختم ہو جاتی ہے۔چنانچہ حضور نے جب صد سالہ جوبلی کے منصوبہ کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ ہی جماعت کو دعاؤں کی تحریک بھی فرمائی۔اس روحانی پروگرام کا خلاصہ یہ تھا