سلسلہ احمدیہ — Page 147
147 ایک سازش تیار کر رہی ہے۔جیسا کہ پہلے یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ ۱۹۵۳ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف جو یورش بر پا کی گئی تھی اس میں جماعت اسلامی نے بھر پور حصہ لیا تھا۔اور ہم یہ ذکر بھی کر چکے ہیں کہ ۱۹۵۳ء میں جن مذہبی گروہوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف فسادات بر پا کیسے تھے،اس وقت کے وزیر اعظم نے خود پارلیمنٹ میں یہ کہا تھا کہ بیرونی ہاتھ ان عناصر کی پشت پناہی کر رہا تھا۔جب حضور نے ۱۰ اگست ۱۹۷۰ء کو ربوہ میں احمدی ڈاکٹروں سے خطاب کیا تو اس میں جماعت کو اس سازش سے مطلع کرتے ہوئے فرمایا: " ہماری اس سکیم کا اس وقت تک جو مخالفانہ ردعمل ہوا ہے وہ بہت دلچسپ ہے اور آپ سن کر خوش ہوں گے اس وقت میری ایک Source سے یہ رپورٹ ہے۔البتہ کئی طرف سے رپورٹ آئے تو میں اسے پختہ سمجھتا ہوں بہر حال ایک Source کی رپورٹ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ نے یہ ریزولیشن پاس کیا ہے کہ ویسٹ افریقہ میں احمدیت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہاں ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس واسطے پاکستان میں ان کو کچل دو تا کہ وہاں کی سرگرمیوں پر اس کا اثر پڑے اور جماعت کمزور ہو جائے۔بالفاظ دیگر جو ہمارا حملہ وہاں عیسائیت اور شرک کے خلاف ہے اسے کمزور کرنے کے لیے لوگ یہاں سکیم سوچ رہے ہیں۔ویسے وہ تلوار اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کسی مخالف کو نہیں دی جو جماعت کی گردن کو کاٹ سکے ، ان اطلاعات سے یہ ظاہر تھا کہ مغربی افریقہ میں جماعت کی غیر معمولی ترقی بہت سے حلقوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہے۔اور وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر پاکستان میں جماعت کو کچل دیا جائے یا خاطر خواہ نقصان پہنچایا جائے تو پھر جماعت کے لیے یہ بہت مشکل ہوگا کہ وہ افریقہ میں اپنی تبلیغ اور دیگر سرگرمیوں کو پہلے کی طرح جاری رکھ سکے۔جیسا کہ ہم پہلے یہ ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت مصلح موعودؓ کے بابرکت دور خلافت میں اکثر مخالفین اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ حضرت مصلح موعود کے بعد کوئی شخص اس کامیابی کے ساتھ جماعت کی قیادت نہیں کر سکے گا اور یوں جماعت کا شیرازہ جلد بکھر جائے گا۔اس لیے ہم جائزہ لے چکے ہیں کہ ۱۹۴۷ء کے بعد جماعت کے خلاف بہت منظم شورش برپا کی گئی ، حضرت مصلح موعود پر قاتلانہ حملہ کروایا گیا اور اندرونی فتنہ پیدا کر کے جماعت کے