سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 81 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 81

81 چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے نصیحت فرمائی تھی کہ آسانی پیدا کرو اور سختی نہ کرو۔اور لوگوں کو خوشخبری سناؤ اور متنفر نہ کرو۔(۳) ان مضبوط بنیادوں پر اسلامی شریعت کو استوار کیا گیا تھا۔لیکن جب صحابہ گذر گئے اور تابعین کا دور بھی ختم ہو گیا تو افراط و تفریط کا دور شروع ہوا۔جو خوبصورت تعلیم امت کو متحد کرنے کا باعث تھی۔روزمرہ کے مسائل فقہ میں اختلافات کو آڑ بنا کرامت مسلمہ میں انتشار پیدا کیا گیا۔کبھی خلق قرآن کے مسئلے پر خون ریزی کی گئی تو کبھی رفع یدین پر تنازع اتنا بڑھا کہ لوگوں نے مساجد میں آنا ہی ترک کر دیا۔جس تعلیم کی بنیاد ہی نرمی پر تھی اور جس کا مقصد لوگوں کو خوش خبری دینا تھا، اسے سختی کرنے اور لوگوں کو متنفر کرنے کا ذریعہ بنالیا گیا۔یہ فتنہ اتنا شدید تھا کہ چاروں ائمہ فقہ، یعنی حضرت امام مالک ، حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام احمد بن حنبل اور حضرت امام شافعی کو اختلافات کی بنیاد پر اسیری کی سختیاں جھیلنی پڑیں۔اور امام مالک، امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل کو تو کوڑے بھی لگوائے گئے۔ان آئمہ کا دور ختم ہوا تو آہستہ آہستہ ان نام نہاد علماء کا دور دورہ شروع ہوا جن کے متعلق آنحضرت ﷺ نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ جب علماء اٹھ جائیں گے تو پھر لوگ نا اہل لوگوں کو اپنا سردار بنالیں گے۔ان سے سوال پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔خود بھی گمراہ ہوں اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے (۴) کسی نے صرف کتاب اللہ کی پیروی کا نام لے کر احادیث نبویہ کو بیکار قرار دیا۔اور کسی نے قرآنِ کریم کو نظر انداز کر کے ضعیف احادیث کو قرآنی آیات پر فوقیت دینی شروع کر دی۔ایک گروہ مغربی فلسفے سے اتنا مرعوب ہوا کہ عقل بلکہ ناقص عقل کو دین پر حاکم بنا دیا۔اور علماء کے ایک بڑے طبقے نے فقہی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے پر تکفیر کا وہ بازار گرم کیا کہ کسی کو دائرہ اسلام کے اندر باقی نہ چھوڑا۔آخر وہ وقت آیا کہ ایک تو اسلام ہر طرف سے صلیبی حملوں میں گھرا ہوا تھا اور دوسری طرف آپس کے تنازعات عالم اسلام کو اندر سے کھا رہے تھے۔۔اس حال میں ہر دردمند مسلمان یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ دین کو صلیبی یورشوں سے کون بچائے گا ، ان اندرونی جھگڑوں کا فیصلہ کون کرے گا۔مگر رسول کریم ﷺ نے صرف آنے والے فتنوں کی خبر نہیں دی تھی بلکہ یہ بھی پیشگوئی فرما دی تھی کہ ان اندھیروں سے نکلنے کی صورت کیا ہوگی۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ تمہارے درمیان ابنِ مریم اترے گا جو