سلسلہ احمدیہ — Page 712
712 دشمن کو پھر کبھی خوشی کا موقع نہ ملے گا۔(۹) چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ کے مبارک دور خلافت میں بھی متعدد بار دشمن نے سازشیں کیں اور چاہا کہ جماعت میں تفرقہ پڑے لیکن وہ ناکام و نامرادر ہے اور جس طرح کی خوشی انہیں حضرت خليفة اسبیع الاول کی وفات پر حاصل ہوئی تھی کہ جماعت کے دو ٹکڑے ہو گئے ہیں ، ایسی خوشی انہیں پھر کبھی حاصل نہ ہوئی اور اب حضرت خلیفہ آسیح الثانی کی وفات کے موقع پر بھی وہ حسرت سے کف افسوس ملتے رہ گئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حضرت مصلح موعودؓ کے اس خطبہ جمعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا دلیکن حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس وقت یہ بھی فرمایا تھا کہ تم دعاؤں میں لگ جاؤ۔اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ خوشی دشمن صرف ایک دفعہ دیکھ سکتا تھا اور وہ اس نے دیکھ لی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کرے گا۔کہ دشمن تھوڑا بہت حملہ تو کرے گا۔شاید تھوڑا بہت نقصان بھی پہنچا دے احمدیوں کو تکلیفیں بھی دے سکتا ہے ان سے ایثار اور قربانی کے مطالبے بھی اس کے مقابلے میں کئے جاویں گے لیکن یہ تم کبھی نہ دیکھو گے کہ ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء والا تفرقہ اور پراگندگی جماعت میں دشمن کو پھر نظر آئے۔اب جب خود آپ کا وصال ہوا تو ہم اس کے بعد کے دنوں کے حالات کو دیکھتے ہیں۔ہر احمدی ایک موت کی سی حالت دیکھتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ہر ایک احمدی کے دل میں حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اتنی محبت پیدا کی تھی اور پھر آپ کو احباب جماعت پر اس کثرت اور وسعت کے ساتھ احسان کرنے کی ان کے غموں میں شریک ہونے کی ، ان کی خوشیوں میں شامل ہونے کی ، ان کی ترقیات کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرنے کی اس قدر توفیق دی تھی کہ ہر شخص سمجھتا تھا کہ گویا آج میری ہی موت کا دن ہے۔بعض احمدی حضور کی اس بیماری کے دوران اپنی کم علمی کی وجہ سے، بعض نادانی کی وجہ سے ، بعض کمزوری کی وجہ سے اور شاید بعض شرارت کی وجہ سے بھی اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے جو ہمارے کانوں میں بھی پڑتی تھیں کہ گویا جماعت میں بڑا تفرقہ پیدا ہو چکا ہے لیکن یہ باتیں اس وقت سے پہلے تھیں۔جب اس موہومہ تفرقہ نے دنیا کے سامنے اپنا چہرہ دکھانا