سلسلہ احمدیہ — Page 710
710 خلیفہ امسیح الثانی کے جنازہ کے سامنے احباب کو مخاطب کر کے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ نماز جنازہ ادا کرنے سے قبل ہم سب مل کر اپنے ربّ رؤف کو گواہ بنا کر اس مقدس مونہہ کی خاطر جو چند گھڑیوں میں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہونے والا ہے اپنے ایک عہد کی تجدید کریں اور وہ عہد یہ ہے کہ ہم دین اور دین کے مصالح کو دنیا اور اس کے سب سامانوں اور اس کی ثروت اور وجاہت پر ہر حال میں مقدم رکھیں گے اور دنیا میں دین کی سر بلندی کے لئے مقدور بھر کوشش کرتے رہیں گے۔۔اس موقع پر ہم اپنے ایک اور عہد کی تجدید بھی کرتے ہیں۔اگر چہ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ بہشتی مقبرہ قادیان کے بہشتی مقبرہ کے ظل کی حیثیت سے ان تمام برکات کا حامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُس بہشتی مقبرہ کے ساتھ وابستہ کی ہیں لیکن حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ اولاد جو پنجتن کہلاتی ہے اور ان میں سے جو وفات یافتہ یہاں مدفون ہیں اور خاندان کے دوسرے وفات یافتہ افراد بھی جن کا مدفن اس مقبرے میں ہے ہم ان کے تابوتوں کو مقدر وقت آنے پر قادیان واپس لے جائیں گے اور ان تمام امانتوں کو جانوں سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہوئے اولین وقت میں ان جگہوں پر پہنچا دیں گے جن کی طرف وہ حقیقی طور پر اپنے آپ کو منسوب کرتے تھے۔اور جہاں ان کو پہنچا نا ضروری اور جس کا ہم نے عہد کیا ہوا ہے۔(۸) اس عہد کی تجدید کے وقت صفوں میں کھڑے ہوئے احباب پرسوز و گداز کا ایسا عالم طاری ہؤا کہ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں اور ہر طرف سے انشاء اللہ انشاءاللہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔بج کر ۴۰ منٹ پر نماز جنازہ شروع ہوئی۔نماز جنازہ میں تکبیر تحریمہ سمیت چھ تکبیریں کہی گئیں۔جنازے کے دوران بھی احباب پر رقت کا ایسا عالم طاری تھا کہ شرکاء کی ہچکیوں اور سسکیوں کی آواز میں فضا میں گونج رہیں تھیں۔نماز جنازہ کے بعد جنازہ کو اُس احاطے کے اندر لے جایا گیا جہاں پر حضرت ام المؤمنین مدفون تھیں۔تدفین کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے دعا کرائی اور 4 بج کر ۴۰ منٹ پر بہشتی مقبرہ سے واپس ہوئے۔