سلسلہ احمدیہ — Page 697
697 نہ دیکھا جاسکتا تھا نہ لفظوں میں بیان کیا جا سکتا تھا صرف محسوس کیا جاسکتا تھا۔جب فجر کی نماز کا وقت ہوا تو نماز پڑھانے سے قبل مکرم مولا نا جلال الدین صاحب شمس نے ایک مختصر خطاب کرتے ہوئے احباب کو بکثرت دعائیں کرنے کی تحریک کی۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کا محبوب بندہ محمود ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اپنے پیارے آقا سے جا ملا۔انا لله و انا اليـه راجعون حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمت اسلام کے لئے وقف رکھا۔ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی حضور کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف رکھیں اور دنیا میں اسلام کو سر بلند کرنے کے لئے قربانیاں پیش کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھیں۔ان ایام میں ہمیں خصوصیت سے بکثرت استغفار کرنی چاہئیے اور خاص طور پر سورۃ فاتحہ کو کثرت سے پڑھنا چاہئیے۔اُس وقت حاضرین پر خاص رقت کا عالم طاری تھا۔نماز فجر شروع ہوئی تو رکوع کے بعد قیام اور سجدوں کے دوران احباب نے بہت گریہ وزاری سے دعائیں کیں۔ہچکیوں اور سسکیوں کی دردناک آوازوں سے مسجد گونج رہی تھی۔حضرت مصلح موعود کی شخصیت کو وہ لوگ بھی خراج تحسین پیش کر رہے تھے جو آپ کی بیعت میں شامل نہیں تھے۔جب اگلے روز ملکی اخبارات میں آپ کی وفات کی خبریں شائع ہوئیں تو غیر بھی آپ کے کارناموں کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ روز نامہ جنگ نے ان الفاظ میں آپ کی وفات کی خبر شائع کی احمدی فرقہ کے مذہبی پیشوا مرزا بشیر الدین محمود احمد کل رات سوا بارہ بجے ربوہ میں انتقال کر گئے۔وہ گزشتہ تین ہفتوں سے بیمار تھے۔انکی عمر ستر سال تھی۔انہیں کل صبح ربوہ میں دفن کیا جائے گا۔تمام دنیا میں مرحوم کے تمھیں لاکھ معتقدین ہیں اور ان کے مبلغوں اور داعیوں کا جال بچھا ہوا ہے۔پاکستان کے کونہ کونہ اور دنیا کے مختلف حصوں سے احمدی اپنے مرحوم رہنما کی تجہیز و تکفین میں شرکت کیلئے بڑی تعداد میں ربوہ پہنچ رہے ہیں۔ان کی تدفین سے پہلے فرقہ کے نئے رہنما کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔اس مقصد کے لئے احمدیوں کی مجلس انتخاب کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔مرزا بشیر الدین محمود نے جو ۱۹۱۴ءء میں اپنے فرقہ کے خلیفہ منتخب کئے گئے تھے بڑی پُر مشقت زندگی گزاری۔انہوں نے