سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 644 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 644

644۔آپ نے تمام مخالفت کے باوجود ۱۹۴۶ء میں مولانا نورالحق صاحب انور کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔اسی طرح مکرم موسیٰ سمپا صاحب (Sempa) شیعوں کی مسجد کے امام تھے۔آپ نے اپنی امامت چھوڑ کر احمدیت قبول کی۔ان دونوں بزرگان نے قرآنِ کریم پڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔اسی طرح مکرم الحاج زیدی لوا کی موسو کے Zaidi Lwaki Musoke) بھی شیعوں کے شیخ اور عالم تھے۔احمدیت قبول کرنے کے بعد آپ کو بہت سے ابتلاؤں کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ ثابت قدم رہے۔جب سعودی عرب حج کے لئے گئے تو دورانِ حج انہیں زدوکوب بھی کیا گیا۔ان کے علاوہ دوسرے مقامی احمدی بھی فریضہ تبلیغ ادا کرتے تھے لیکن اب اس بات کی ضرورت تھی کہ مقامی طلباء مرکز آکر با قاعدہ علم دین حاصل کریں۔(۲۴) مکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب نے اپنی رپورٹ محررہ ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۵ء میں یوگنڈا کی مقامی زبان سیکھنے کیلئے حضور سے دعا کی درخواست کی اور یوگنڈا کے لوگوں کی خوبیاں تحریر فرمائیں۔اس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا اللہ تعالیٰ جلد زبان سیکھنے اور عمل کر نیکی توفیق دے۔جماعت کے لوگوں کو تحریک کریں کہ کچھ چندہ قادیان بھی بھیجا کریں۔قادیان کے لوگوں کا برا حال ہے۔(۲۵) سواحیلی میں تو قرآنِ کریم کا ترجمہ شائع ہو چکا تھا۔کینیا میں ایک اور بولی جانے والی زبان Kikuyu بھی تھی۔۱۹۵۷ء میں اس زبان میں بھی ترجمہ کا کام مکمل ہو گیا لیکن ایک طویل عرصہ اس اشاعت معرض التوا میں پڑی رہی اور بالآخر ۱۹۸۸ء میں اس کی اشاعت کرائی گئی۔(۲۳) ۱۹۵۷ء میں ہی نیروبی سے جماعت کا ماہانہ جریدہ ایسٹ افریقن ٹائمنر جاری کیا گیا۔جلد ہی یہ جریدہ پندرہ روزہ ہو گیا۔(۲۶، ۲۷) ۱۹۵۹ء میں مکرم چوہدری عنایت اللہ صاحب اور مکرم عبد الکریم صاحب شرما کے ذریعہ میرو (Isiolo،(Meru اور Taveta کے مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔(۲۸) ممباسہ کینیا کا ایک نہایت اہم ساحلی شہر ہے۔یہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک زمانے سے احمدی آنا شروع ہو گئے تھے مگر اب تک یہاں پر باقاعدہ جماعت کی مسجد اور مشن ہاؤس تعمیر نہیں ہوئے تھے۔۱۹۵۹ء میں یہاں پر مسجد کی تعمیر شروع ہوئی اور اس کے ساتھ مشن ہاؤس بھی