سلسلہ احمدیہ — Page 611
611 اشتعال آتا ہے ورنہ فساد ہو جائے گا۔مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی نے اسے اُتارنے سے انکار کر دیا۔ایک گھنٹہ کے بعد یہ لوگ دوبارہ آئے اور اب ان کے ساتھ پولیس کا ایک سپاہی بھی تھا اور اس اشتہار کو اُتار کر چلے گئے۔جب عدالت میں معاملہ پیش ہوا تو عیسائی صاحبان کا خیال تھا کہ غیر احمدی مسلمان ان کی مدد کریں گے۔ایک عربی النسل عالم تو پادریوں کے ساتھ مل کر مباحثہ کرنے کو تیار ہو گئے لیکن مسجد کے امام صاحب نے صاف کہہ دیا کہ یہ جھگڑا احمدیوں اور عیسائیوں کے درمیان ہے۔ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ اشتہار ہمارے کسی عقیدے کے خلاف ہے۔اس طرح مخالفین کی سازش کی کمر ٹوٹ گئی۔(۹) اسی طرح بو کے مقام پر بھی جماعت کی مخالفت تیز ہوگئی اور ایک ریاست کے پیرا ماؤنٹ چیف نے ایک مقامی احمدی مبلغ کو احمدیت کی تبلیغ کرنے پر جرمانہ بھی کر دیا۔(۱۰) لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود سیرالیون کی جماعت اپنا قدم آگے بڑھا رہی تھی۔اور ۱۹۴۳ء کے دوران تیرہ نئے مقامات پر جماعتیں قائم ہوئیں۔ان جماعتوں میں روتیفنک کی جماعت بھی تھی۔روتیفنگ کے دور افتادہ مقام کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خاص ہدایت فرمائی تھی کہ یہاں پر جماعت قائم کی جائے۔اس کے علاوہ بوسمیت تین مقامات پر مساجد اور دارالتبلیغ کی تعمیر تیزی سے مکمل ہو رہی تھی۔اور روکو پور اور باؤ ماہوں میں جماعت کے اسکول کام کر رہے تھے۔سیرالیون کی فعال جماعت نے اپنی کاوشوں کا دائرہ کا رصرف سیرالیون تک محدود نہیں رکھا ہوا تھا۔چنانچہ ۱۹۴۳ء میں ایک مخلص آنریری مبلغ مکرم الفا عبد اللہ صاحب کو تین ماہ کے لئے لائیبیریا میں تبلیغ کے لئے بھجوایا گیا تاکہ ہمسایہ ممالک میں بھی احمدیت کا پیغام پہنچایا جائے۔(۱۱) ۱۹۴۳ء کا اکثر حصہ مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی نے مختلف علاقوں کے دوروں میں گذارا اور جنوری ۱۹۴۴ء میں لائبیریا کی سرحد تک جا کر احمدیت کی تبلیغ کی۔ان دوروں کے بعد آپ کو مرکز واپس آنے کی اجازت موصول ہوئی۔آپ مکہور کا تشریف لائے جہاں پر مکرم مولا نا محمد صدیق صاحب مقیم تھے اور آپ کو مشن کا چارج دیا اور اپریل ۱۹۴۴ء میں آپ ہندوستان کے لئے روانہ ہو گئے۔(۱۲) اب سیرالیون میں احمدیوں کے لئے ابتلاؤں کا ایک دور شروع ہو چکا تھا۔اور نوبت یہاں تک