سلسلہ احمدیہ — Page 606
606 سیرالیون میں احمدیت تیزی سے پھیلنے لگی۔یہ چھوٹا سا ملک جماعت کی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔مکرم نذیر احمد صاحب علی کی تبلیغی مساعی کسی ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں تھی بلکہ آپ نے شروع سے ہی پورے ملک کے دور دراز علاقوں میں احمدیت کا پیغام پہنچایا۔اور تبلیغ اور تربیت کا ہر ممکنہ طریقہ اختیار فرمایا۔سیرالیون میں فری ٹاؤن کے بعد سب سے پہلے روکو پور میں جماعت قائم ہوئی تھی۔یہاں پر جماعت مستحکم ہوئی تو مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر ان کی تعلیم و تربیت کی طرف متوجہ ہوئے۔اسی گاؤں میں سیرالیون میں جماعت کا پہلا پرائمری اسکول جاری کیا گیا۔مئی ۱۹۳۹ ء تک اس اسکول کی اپنی عمارت مکمل ہوگئی۔یہ عمارت سیرالیون میں جماعت کی طرف سے تعمیر کی جانے والی پہلی عمارت تھی۔جب ۱۹۴۰ء کا سال شروع ہوا تو مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی نے سیرالیون کے جنوبی صوبہ کو اپنی مساعی کا مرکز بنایا۔ایک شامی تاجر مکرم سید حسن محمدابراہیم صاحب ابھی احمدی تو نہیں ہوئے تھے لیکن جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کے معترف تھے اور سیرالیون میں اسلام کی تبلیغ میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔بیعت کرنے سے قبل بھی وہ حق کو اس قدر ضرور پہچان چکے تھے کہ انہوں نے شام کے ایک رسالے العرفان میں ایک مضمون تحریر کیا۔اس مضمون میں انہوں نے جماعت احمدیہ کی ان خدمات کا ذکر کیا جو دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام کی تبلیغ کے لئے کی جارہی تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مختلف حوالے درج کر کے یہ سوال اُٹھایا کہ عرب دنیا کے پاس آپ کے انکار اور مخالفت کی وجہ کیا ہے۔انہوں نے مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی کو جنوبی صوبہ میں آکر احمدیت کی تبلیغ کی تحریک کی۔چنانچہ ان کی تحریک کے نتیجے میں مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی نے جنوبی صوبہ ہو گئے اور وہاں پر تقاریر کیں اور مختلف لوگوں سے رابطے کئے۔لیکن ابھی بواس سعادت کے لئے تیار نہیں تھا کہ وہاں پر جماعت کا قیام عمل میں آئے۔یہ سعادت ایک اور جگہ Baowahun کے حصہ میں پہلے آنا مقدر تھی۔یہ گاؤں Lunya چیفڈم میں ہے۔اس گاؤں میں مقیم ایک شخص کو پہلے ہی رویا میں وہاں پر مکرم نذیر احمد صاحب علی کی آمد دکھائی گئی تھی۔یہ شخص پاسننا صاحب تھے انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ مسجد کے گرد گھاس اکھیڑ رہے ہیں اور تھک کر پام کے درخت کے نیچے