سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 603 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 603

603 عرصہ مسجد سے پانچ چھ میل کے فاصلے پر تھا مگر وہ فجر کی نماز پر اپنی موٹر پر پہنچ جاتے۔نمازیں اس سوز سے پڑھتے تھے کہ بسا اوقات مسجد ان کی سسکیوں سے گونج اُٹھتی تھی۔ان کو کثرت سے سچی خوا ہیں آتیں جنہیں وہ اپنے غیر احمدی دوستوں کو سنا کر کہتے کہ یہ سب احمدیت کی برکت ہے۔مرکز میں صحابہ سے ایک گہرا تعلق قائم ہوا۔بہت خود دار انسان تھے مگر صحابہ کے سامنے نہایت انکسار سے پیش آتے تھے۔جب حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب تنزانیہ آئے تو آپ حضرت چوہدری صاحب کو مسجد سے نکلتے ہوئے جوتے تک پہناتے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب، آپ کو بہت منع کرتے مگر آپ اس خدمت پر اصرار کرتے۔جب آپ کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت غلام رسول راجیکی صاحب کی وفات کی اطلاع ملی تو بے قرار ہو کر کئی روز تک روتے رہے۔ان کی دینداری کی وجہ سے اعلیٰ سیاسی حلقوں میں بھی ان کا غیر معمولی احترام کیا جاتا تھا۔تمیں سال کا عرصہ بہت لمبا ہوتا ہے۔کسی کو تیس سال پہلے کے وزراء کے نام بھی معلوم نہیں ہوتے۔ایک بار خاکسار ۱۹۸۹ء میں جماعت کی صد سالہ جوبلی کے موقع پر یوگینڈا میں تنزانیہ کے سفیر سے ملا اور باتوں میں مکرم عمری عبیدی صاحب کا ذکر آیا۔سفیر صاحب نہ صرف آپ کی بلند پایہ شخصیت سے بخوبی واقف تھے بلکہ بڑے افسوس سے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ یہ بڑی بدنصیبی تھی کہ وہ بہت جلد ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔۱۹۶۴ء میں وہ تنزانیہ کے صدر Nyerere کے ہمراہ قاہرہ میں منعقد ہونے والی افریقی سربراہان مملکت کی کانفرنس میں شرکت کے لئے مصر گئے۔کھانے کے دوران شراب بھی پیش کی جاتی تھی اس لئے کھانے کے وقت آپ اپنے ساتھیوں سے علیحدہ ہو کر اپنے کمرے میں کھانا کھاتے۔ایک روز کھانا کھانے کے بعد آپ کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی۔اور اس کے بعد آپ کی صحت تیزی سے گرنے لگی۔قاہرہ میں ہی قیام کے دوران آپ نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک سڑک پر چلے جا رہے ہیں جو ایک باغ میں جا رہی ہے۔اور راستے میں ایک مور آپ کو ملتا ہے اور کہتا ہے کہ جہاں تم جا رہے ہو وہ جگہ بہت خوبصورت ہے۔وطن واپس آتے ہوئے آپ ہوائی جہاز میں بیہوش بھی ہو گئے۔وطن واپسی پر آپ کی صحت مزید خراب ہو گئی۔بعض ذرائع ابلاغ اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ آپ کو زہر دیا گیا ہے۔آپ کو جرمنی کے شہر بون علاج کی غرض سے لے جایا گیا مگر خالق حقیقی