سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 574 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 574

574 آئیوری کوسٹ میں جماعت کا قیام جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ اب تک مغربی افریقہ کے چار ممالک میں جماعت کا قیام عمل میں آچکا تھا۔یہ سب ممالک English speaking west Africa سے تعلق رکھتے تھے۔مغربی افریقہ میں بہت سے ممالک فرانسیسی تسلط میں رہے تھے اور اس نسبت سے انہیں Francophone ممالک کہا جاتا تھا کیونکہ یہاں پر انگریزی کی بجائے فرانسیسی سرکاری اور تعلیمی زبان کا درجہ رکھتی تھی۔ابھی تک مغربی افریقہ کے کسی Francophone ملک میں مشن قائم نہیں ہوا تھا۔چنانچہ سب سے پہلے اس مقصد کے لئے آئیوری کوسٹ کا انتخاب کیا گیا۔یہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے روایتی مذہب سے بھی وابستہ ہے۔اُس دور میں عام مسلمان دینی علوم سے دور کا بھی واستہ نہیں رکھتے تھے۔بالخصوص علماء زودرنج اور ظاہر پرست واقع ہوئے تھے۔با وجود گرمی کے بھی تین تین جسے پہن کر رکھتے۔ہر عالم کے پاس عوام کو دھوکہ دینے کے لئے علیحدہ قسم کے انتظامات موجود تھے۔کوئی قرآنی آیات کو سختی پر لکھ کر دھو کر پلاتا، کوئی تعویذ دیتا، کوئی آب زمزم سے دوائی بنا کر دیتا اور کوئی ریت پر ہاتھ کا عکس لے کر قسمت کا حال بتا تا۔یہ ڈھنگ اختیار کر کے یہ لوگ لوگوں کو گمراہ کرتے۔(۱) ۱۹۶۰ء میں جبکہ مذکورہ بالا چار ممالک کے علاوہ گیمبیا میں بھی مشن کے قیام کے لئے بھی کوششیں ہو رہی تھیں ، آئیوری کوسٹ میں جماعت کا مشن کھولنے کا فیصلہ ہوا اور اس کے لئے مکرم قریشی مقبول احمد صاحب کا انتخاب کیا گیا۔آپ اس غرض کے لئے ۲۲ نومبر ۱۹۶۰ء کور بوہ سے روانہ ہوکر ۲۵ نومبر کو نائیجیریا کے دارالحکومت لیگوس پہنچے۔کچھ ماہ نائیجیریا اور غا نا میں گزار کر آپ فرانسیسی سفارت خانے کی اس یقین دہانی پر آئیوری کوسٹ پہنچے کہ آپ کو ایئر پورٹ پر ویزامل جائے گا۔مگر وہاں پہنچ کر آپ کو ویزا نہیں مل سکا۔پھر آپ وہاں سے غا نا آگئے اور دو ماہ کے لئے سینی گال گئے اور کچھ عرصہ گیمبیا میں ٹھہرے تھے کہ آپ کو حکومت آئیوری کوسٹ کی طرف سے ویزا دے دیا گیا اور بالآخر ۲۲ جولائی ۱۹۶۱ء کو آئیوری کوسٹ پہنچ گئے۔آپ کا قیام ملک کے دارالحکومت آبی جان میں تھا