سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 556 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 556

556 مگر ابھی نظر ثانی کا اہم اور صبر آزما مرحلہ باقی تھا۔کچھ ماہ کے لئے اس کام کو ملتوی کرنا پڑا پھر نظر ثانی شروع ہوئی۔مئی ۱۹۵۷ء تک صرف ترجمہ کے کام پر روزانہ آٹھ نو گھنٹے کام کر کے اس کی نظر ثانی ہو چکی تھی مگر اس کے بعد نظر ثالث کا فیصلہ کیا گیا اور اس مرتبہ نظر ثانی سے زیادہ وقت لگ رہا تھا۔حضور فرماتے تھے کہ ان دنوں میں بعض اوقات کام کرتے کرتے میں مدہوش ہو جاتا ہوں۔بعض دفعہ یہ محسوس ہوتا تھا کہ میں گر جاؤں گا۔مولوی یعقوب صاحب عرض کرتے کہ حضور کام بہت زیادہ ہو گیا ہے اب بس کر دیں۔مگر حضور اس حالت میں بھی کہتے کہ کام کرتے جاؤ۔ابھی تفسیر صغیر کی اشاعت بھی نہیں ہوئی تھی کہ کلام اللہ کی عظمت کے پیش نظر حضور نے یہ نصیحت فرمائی۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ قرآنِ کریم میں جو مضامین بیان ہوئے ہیں۔اگر ساتوں سمندر سیاہی بن جائیں اور سات سمندر اور ان میں ڈال دئے جائیں۔تب بھی وہ مضامین ختم نہیں ہوں گے۔اور پھر ان کو کوئی انسان ترجمہ کے اندر کیسے لاسکتا ہے۔وہ تو اپنی طرف سے یہی کرے گا کہ ایک ناقص چیز پیش کر دے۔۔۔اس لئے یہ بات تو سرے سے ہی غلط ہے کہ میں کوئی کامل ترجمہ قرآن کریم کا کروں گا۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کامل وہی ہے جو عربی زبان میں خدا تعالیٰ نے اُتارا ہے۔میں جو تر جمہ کروں گا وہ بہر حال ناقص ہی ہوگا۔اور مجھ سے پہلوں نے جو کچھ کیا ہے وہ بھی ناقص ہے۔مجھے ان کے تراجم میں نقائص نظر آتے ہیں۔اور ہزار سال بعد آنے والوں کو میرے ترجمہ میں نقص نظر آئیں گے۔قرآن کریم کے مقابلہ میں جو کچھ بھی ہو گا وہ ناقص ہی ہوگا۔(۱) اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۱۲ اکتوبر ۱۹۵۸ء کو سا را ترجمہ مکمل ہو گیا۔(۲) تفسیر کبیر کے کام کی طرح مکرم مولا نا ابو منیر نور الحق صاحب کو تفسیر صغیر کے کام میں بھی حضور کی معاونت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اور اسی طرح مولانا جلال الدین شمس صاحب نے بھی اس سعادت سے حصہ پایا۔جب تفسیر صغیر کی ہزار کے قریب جلدیں چھپ چکیں تو حضور نے ارشاد فرمایا انڈیکس یعنی قرآنی کریم کے مضامین کی فہرست بھی لگادی جائے۔تا کہ اس کے مطالعہ کے بعد ہراحمدی کی آنکھوں کے سامنے قرآن کریم کے مطالب کا خلاصہ آ جائے۔مکرم مولوی ابو میر نورالحق صاحب نے پندرہ