سلسلہ احمدیہ — Page 515
515 پر مجبور کیا جائے (۶۷)۔اس فتنہ کے شروع ہونے سے قبل ۱۶ جون ۱۹۵۶ء کے الفضل میں ان لوگوں کے نام شائع ہوئے تھے جو مولوی عبد المنان عمر صاحب کو الوداع کہنے کے لئے سٹیشن پر آئے تھے اور ان میں سب سے نمایاں نام خود حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا ہی تھا۔اس موقع پر اخبارات نے وہی پرانا راگ منظم انداز میں الاپنا شروع کیا کہ ربوہ ریاست کے اندر ایک ریاست بن چکا ہے۔ستمبر کی اشاعت میں الفضل نے اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ان اخبارات میں سے جنہوں نے ایک پلان کے مطابق ایک ہی مضمون ریاست در ریاست پر ایک دو دن کے اندر اندر اداریے لکھے ہیں ایک سفینہ بھی ہے۔اس سے چٹان ، نوائے وقت، آفاق کے اداریوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔اور جو الزامات ان اداریوں میں ایک سوچی سمجھی ہوئی تجویز کے مطابق جماعت احمدیہ اور اس کے نظام پر لگائے گئے ہیں۔ان کا کسی قد تفصیلی جواب ہم دے چکے ہیں۔۔۔کوہستان، سفینہ اور آفاق تو ابتداء ہی سے جماعت احمدیہ کے خلاف جو افترا ئیں گھڑی جارہی ہیں، احراری اخبار نوائے پاکستان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔البتہ نوائے وقت اور چٹان اپنے معمولی راستہ سے ذرا ہٹ کر د اداریہ نویسی کی اس مہم میں شامل ہو گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ غور کرنے والا دماغ آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ یکدم ایک ہی مضمون پر تقریباً ایک ہی انداز سے ان اخبارات کا لکھنا کوئی خاص معنی رکھتا ہے۔اور کوئی ایک ہاتھ ہے، جس نے ان مختلف اخبارات کو ایک ہی وقت میں ایسے اداریوں پر قلم اُٹھانے کی تکلیف دی ہے۔(۵۰) اس کے جواب میں سب سے زیادہ سرگرمی سے نوائے وقت نے تردید کی۔اور ۹ ستمبر ۱۹۵۶ء کو ایک اداریہ ”الفضل کا ناپاک بہتان کے نام سے شائع کیا گیا۔اس میں الفضل کے اداریے کا ذکر کر کے لکھا و ہمیں یقین ہے کہ ہمارے معاصرین الفضل کو اس بہتان کا مناسب جواب دیں گے۔ہم نوائے وقت کی طرف سے اس ناپاک الزام کے جواب میں صرف یہی کہہ سکتے