سلسلہ احمدیہ — Page 484
وطن واپسی 484 پاکستان کے احمدی احباب اب بے تابی سے حضور کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے یہ اشعار اس وقت لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔مبارک آ رہے ہیں آج وہ روز و شب بے چین تھے جن کے لئے آگیا آخر خدا کے فضل دن گنا کرتے تھے جس دن کے لئے صد ۵ دسمبر ۱۹۵۵ء کی شام کو حضور بخیر و عافیت کراچی پہنچ گئے۔ناظر اعلیٰ میاں غلام محمد صاحب اختر نے دیگر احباب کے ساتھ حضور کا استقبال کیا پاکستان کی مختلف جماعتوں کے نمائیندگان بھی حضور کے استقبال کے لئے کراچی آئے ہوئے تھے۔جب حضور کی آمد کی خبر تار کے ذریعہ ربوہ پہنچی تو ربوہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اور حضور کے استقبال کی تیاریاں تیز کر دی گئیں۔کچھ عرصہ کراچی قیام فرمانے کے بعد حضور ۲۵ ستمبر کور بوہ تشریف لائے۔جب مسجد مبارک کے لاؤڈ سپیکر سے یہ اعلان کیا گیا کہ حضور آج شام کو چناب ایکسپریس سے تشریف لائیں گے تو احباب حضور کا دیدار کرنے کے لئے راستوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب، صحابہ کرام ، ناظران اور وکلاء صاحبان پلیٹ فارم پر استقبال کے لئے موجود تھے۔جب سات بجے دور سے ریل گاڑی کی روشنی نظر آنی شروع ہوئی تو احباب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔حضور جب گاڑی سے نیچے تشریف لائے تو سب سے پہلے امیر مقامی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اور پھر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے حضور کا استقبال کیا۔پھر حضور اُس جگہ پر تشریف لائے جہاں دیگر احباب منتظر تھے۔حضور کی آمد پر حضرت مسیح موعود کے صحابہ کی حالت شدت جذبات سے غیر ہوئی جا رہی تھی۔جوش مسرت سے ان پر رقت طاری تھی۔اُن میں سے بعض ہاتھ پھیلائے ہوئے حضور کی طرف دوڑ پڑے۔حضور نے انہیں شرف مصافحہ سے نوازا اور ان کا حال پوچھا۔اس کے بعد حضور شکار میں قصر خلافت روانہ ہوئے۔سب سے پہلے حضور مسجد مبارک تشریف لے گئے اور حضور نے قبلہ رخ کھڑے ہو کر نہایت رقت انگیز دعا کرائی اور اس کے بعد اپنی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔حضور کی آمد کی خوشی میں اس بستی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ربوہ کی عمارات پر چراغاں