سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 423 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 423

423 سے بعض نے ملک کے دشمنوں کے فریب میں آکر ایسی مذموم حرکات کیں جن سے پنجاب کے نام کو ایک بدنما دھبہ لگ گیا۔خدا کا شکر ہے کہ بدامنی کی جو لہر پھیل گئی تھی اس پر قابو پالیا گیا ہے اور صوبہ میں تقریباً ہر جگہ پھر امن وسکون کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔بدامنی کی یہ تحریک بظاہر ختم نبوت کے تحفظ کے لئے شروع کی گئی لیکن جو مطالبات اس تحریک کے نام پر پیش کئے گئے وہ سراسر سیاسی تھے۔عوام کو دھوکا دینے کے لئے انہیں مذہبی رنگ دیا گیا۔یہ پراپیگنڈ اغلط ہے کہ حکومت یا اس کے وزراء ختم نبوت کو نہیں مانتے۔لیکن اس مسئلہ کو بدامنی یا قانون شکنی کی دلیل بنانا اور ڈائرکٹ ایکشن کی ابتداء کرنا ایک خطرناک سازش تھی جس کی بیشتر ذمہ داری جماعت احرار پر عائد ہوتی ہے۔یہ وہ جماعت ہے جو شروع سے پاکستان کی دشمن رہی۔اور قیام پاکستان سے اب تک شاید ہی کوئی ایسا حربہ ہو جو اس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال نہ کیا ہو۔یہاں تک کہ احراریوں نے بانی پاکستان کی محترم ذات پر بھی حملے کرنے سے دریغ نہیں کیا۔اس تحریک کا اصل مقصد ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانا تھا۔اس لئے اس غدارانہ سازش میں بعض اور جماعتیں بھی شامل ہو گئیں جن کا مدعا ان ذرائع سے سیاسی اقتدار حاصل کرنا تھا۔سادہ لوح پنجابیوں کو غلط راستہ پر ڈالنے کے لئے ان کی آنکھوں پر مذہب کی پٹی باندھ دی گئی اور ان کے جذبات کو اشتعال انگیز تقریروں سے بھڑ کا یا گیا۔اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ حکومت کا نظام معطل ہو جائے۔۔۔۔ان کے علاوہ ہمارے یہاں باشعور اور سمجھ دار لوگوں کا ایک طبقہ ایسا بھی موجود تھا جو حالات کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔اور جانتا تھا کہ فسادی عناصر کی منزل کیا ہے۔مگر ان میں سے اکثر خوف و ہراس کی وجہ سے خاموش رہے بلکہ کچھ لوگ تو تشدد کے ذریعے ہڑتالوں اور جلوسوں میں بھی شامل ہوتے رہے۔چنانچہ جہاں کہیں شرفا کی پگڑی اچھالی گئی یا عورتوں کی بے عزتی ہوئی کسی نے بھی اخلاقی جرات کا مظاہرہ نہ کیا۔حالانکہ ان مہذب شہریوں کا فرض تھا کہ آگے بڑھ کر ہمت سے ان اخلاق سوز حرکات کو روکتے۔اس اخلاقی جرات کی کمی کا نتیجہ یہ ہوا کہ غنڈا گردی اندھا دھند پھیلنے لگی اور اس کی زد سے وہ لوگ بھی