سلسلہ احمدیہ — Page 422
422 اب دولتانہ صاحب اس پوزیشن میں نہیں رہے تھے کہ مزید سیاسی چالیں چلتے۔چنانچہ یہ کوشش بھی نا کام ہوگئی۔(۱۱۴) دولتانہ صاحب اب اپنے آپ کو بچانے کے لئے رنگ بدل رہے تھے۔انہوں نے اپنے ۶ مارچ کے اعلان کو منسوخ قرار دیتے ہوئے بیان دیا کہ اب تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں سے بات چیت اور ان کے مطالبات پر غور کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔(۱۱۵) ۲۷ مارچ ۱۹۵۳ء کو حکومت پنجاب نے پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ کی دفعہ پانچ کے تحت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام حکم جاری کیا کہ وہ احرار اور احمدیوں کے اختلافات یا احمدیوں کے خلاف تحریک کے متعلق کسی قسم کا بیان نہ دیں ، نہ تقریر کریں اور نہ کوئی ایسی اطلاع یا مواد شائع کریں جس سے مختلف طبقوں میں نفرت یا دشمنی کے جذبات پیدا ہونے کا اندیشہ ہو (۱۱۶)۔حالانکہ اب تک ساری اشتعال انگیزی اور ظلم جماعت کے مخالفین کی طرف سے ہوا تھا اور پنجاب حکومت بمع اپنے گورنر صاحب کے نہ صرف خاموش تماشائی بنی رہی تھی بلکہ مفسدین کی اعانت بھی کرتی رہی تھی۔جیسا کہ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا بزرگانِ سلسلہ کو ایسی فحش گالیاں دی گئیں تھیں جن کے نتیجے میں اشتعال پھیلنا ایک قدرتی بات تھی۔احمدیوں کو شہید کیا گیا ، ان کی املاک لوٹی گئیں۔اس وقت پنجاب حکومت کو صوبے میں قیام امن کا خیال نہ آیا اور اب جماعت احمدیہ کے امام پر یہ پابندی لگا دی گئی کہ وہ جماعت کے دفاع میں کچھ نہ کہیں کیونکہ اس سے اشتعال پھیلتا ہے۔حضور نے نوٹس لانے والے پولیس افسر سے فرمایا ”بے شک میری گردن آپ کے گورنر کے ہاتھ میں ہے لیکن آپ کے گورنر کی گردن میرے خدا کے ہاتھ میں ہے۔آپ کے گورنر نے میرے ساتھ جو کرنا تھا وہ کر لیا اب میرا خدا اپنا ہاتھ دکھائے گا۔بہر حال حقیقت کا جزوی اعتراف خود گورنر صاحب نے ۲۱ مارچ کو ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے ان الفاظ میں کیا 'پنجاب کے لوگ ہمیشہ اپنی حب الوطنی کے لئے مشہور رہے ہیں۔اور انہیں بجاطور پر فخر رہا ہے کہ کڑی سے کڑی آزمائش میں بھی انہوں نے اپنے شعور اور نیک و بد میں تمیز کرنے کی صلاحیت کو قائم رکھا لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے دنوں ان میں