سلسلہ احمدیہ — Page 409
409 رات مصروف رہتے تھے۔کام کا بوجھ اتنا تھا کہ آپ کو روزانہ رات دو دو تین تین بجے تک کام کرنا پڑتا تھا۔چھ ماہ تک یہ حالت رہی کہ کوئی ہی رات ایسی آتی تھی کہ آپ چند گھنٹے کے لئے سوتے ہوں۔اکثر راتیں جاگتے ہوئے کٹ جاتی تھیں۔(۹۴) حکومت نے جب اعلان کیا کہ اس تحریک کو شروع کرنے والے احراریوں کو اس کام کے لئے پاکستان کے دشمنوں کی طرف سے مددمل رہی ہے تو اس سے شورش کر نے والوں کے کیمپ میں کھلبلی پیدا ہوئی۔اگلے ہی روز ان کی طرف سے بیان جاری ہوا کہ تحریک ختم نبوت کو مجلس احرار کی تحریک کہنا سراسر بہتان طرازی ہے۔اس میں مسلمانوں کے تمام فرقے شامل ہیں۔(۹۵) یکم مارچ کا دن جلوسوں اور گرفتاریوں کا دن تھا۔جب لوگوں کو یہ خبر ملی کہ اُن کو اکسانے والے اختر علی خان خود معافی مانگ کر اپنے گاؤں چلے گئے ہیں تو وہ غضبناک ہو گئے اور ایک ہجوم اُن کے گھر کے گرد جمع ہو گیا مگر وہ وہاں پر نہیں تھے۔لاہور میں تین بڑے جلوس نکلے جنہیں پولیس نے روکا اور ہجوم نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔اب احمدیوں کے گرد خطرات کا گھیرا تنگ ہو رہا تھا۔احمدیوں کی دوکانوں پر پکٹنگ کی جا رہی تھی اور کسی کو اُن سے سودا نہیں لینے دیا جا تا تھا۔لاہور ، لائل پور، منٹگمری، سیالکوٹ ، راولپنڈی ، اوکاڑہ وغیرہ میں احمدیوں کو دھمکیاں مل رہی تھیں کہ یا تو تم احمدیت چھوڑ دو یا ہم تمہیں قتل کر دیں گے تمہاری عورتوں کو اغوا کرلیں گے اور تمہارا گھر بار لوٹ لیں گے۔مولوی مختلف مقامات پر اشتعال انگیز تقاریر کر رہے تھے کہ احمدی کتوں سے بدتر ہیں ان کا مکمل بائیکاٹ کر دینا چاہئیے۔بہت سے غیر احمدی دوست احباب یا تو نظریں چرا رہے تھے یا نظریں بدل رہے تھے۔مشہور کیا جا رہا تھا کہ جس طرح پہلے ہندوؤں اور سکھوں کو ملٹری یہاں سے لے گئی تھی اسی طرح یا تو احمد یوں کو قتل کر دیا جائے گا اور یا انہیں ملٹری لے جائے گی۔۲ مارچ کولوگ اختر علی خان صاحب کو لعنت ملامت کر کے واپس لاہور لائے اور انہوں نے دس ہزار کے جلوس کے ہمراہ گرفتاری پیش کی۔دوسرے لیڈروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔اچانک ایک ہزار کے ہجوم نے اینٹوں ، ڈبوں اور بوتلوں سے پولیس پر حملہ کر دیا۔ایک سو بلوائیوں کو گرفتار کیا گیا۔اس نام نہاد تحریک ختم نبوت والوں کی اخلاقی حالت کا یہ عالم تھا کہ اس دن لاہور کی سڑکوں پر ان لوگوں نے ٹریفک روک کر بھنگڑے ڈالے بخش گالیاں دیں، ہلڑ بازی کی اور اپنے میں سے کچھ لوگوں کا منہ کالا کر کے بھانڈوں جیسی