سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 384 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 384

384 جس طرح شدید جد و جہد اور کشمکش کے مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے انہی مرحلوں سے مہدی کو بھی گذرنا پڑے گا۔“ یہ بات واضح ہے کہ مودودی صاحب کے ذہن میں یہ تصور بیٹھا ہوا ہے کہ آنے والا مہدی کشوف والہامات کی نعمت سے نا آشنا ہو گا اور تلوار تو خوب چلائے گا لیکن اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے مجاہدوں کی تکلیف کبھی گوارا نہیں کرے گا۔گویا نہ رسول کریم ﷺ کی اتباع کرے گا اور نہ ان نعمتوں سے کوئی حصہ پائے گا جو آپ ﷺ کو عطا ہوئی تھیں۔وہ یہ ذکر نہیں کرتے کہ وہ لوگوں کا تزکیہ نفس بھی کرے گا کہ نہیں یا اسلام کی تبلیغ کی طرف بھی کچھ توجہ ہوگی کہ نہیں۔قرآنی معارف اور علوم سے انسانیت کو بہرہ ور کرے گا کہ نہیں۔ان کے ذہن میں تو صرف یہ خیال بسا ہوا ہے کہ وہ ایک سیاسی لیڈر ہوگا اور اپنی عسکری صلاحیتوں کا سکہ بٹھا دے گا اور بس۔لیکن مودودی صاحب کا خیال تھا کہ نہ صرف کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا اعلان نہیں کرے گا بلکہ اسے اپنے مہدی ہونے کی کوئی خبر نہ ہوگی۔دنیا اس کی موت کے بعد خود ہی اس راز سے پردہ ہٹائے گی کہ یہ مہدی تھے۔یہ بات نا قابل فہم ہے کہ دنیا کو اُس کی موت کے بعد تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ مہدی تھے ، اس کی زندگی میں جب کہ اس کے تمام کارنامے سامنے نظر آرہے ہوں گے،اس وقت دنیا اس بات سے کیوں بے خبر رہے گی کہ مہدی ان کی نظروں کے سامنے موجود ہے۔اور یہ بھی ایک معمہ ہے کہ وہ جنگی مہارت میں تو بے نظیر ہوگا مگر کیا اسے رسول کریم ﷺ کی پیشگوئیوں کی کچھ خبر نہ ہوگی۔دنیا کو تو علامات سے پتہ چل جائے گا کہ ان پیشگوئیوں کا مصداق یہ شخص ہے لیکن وہ تمام عمر اس سے بے خبر رہے گا اور اسی عالم میں اُس کا انتقال ہو جائے گا (۴۱)۔ان کے بہت سے ہم عصر علماء نے مودودی صاحب کے ان خیالات سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مودودی صاحب خود مہدی بننے کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔مثلاً محمد ذکریا صاحب لکھتے ہیں۔مودودی صاحب دل سے مہدی بننا چاہتے ہیں اور مقتد یا نہ سیرت سے اپنی لیڈری کی وجہ سے عاجز ہیں۔(۴۲) یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ان خیالات کی وجہ سے مودودی صاحب اور ان کے ہمنوا جماعت احمدیہ سے شدید بغض رکھتے تھے۔جماعت احمد یہ تو ایسے مہدی اور مسیح پر ایمان لاتی ہے جس نے دعاؤں