سلسلہ احمدیہ — Page 350
350 لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کرپس وزیر اعظم پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔وزیر خارجہ ارنسٹ بیون صاف گو انسان تھے انہوں نے چوہدری صاحب سے ملاقات میں اس بات کا خود اقرار کیا۔وزیر اعظم ایٹلے سے ملنے پر ان خدشات کی مزید تصدیق ہو گئی۔وہ نظر ملانے سے بھی گریز کر رہے تھے۔اور پیش کردہ قرارداد کی بجائے دوسرا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔کامن ویلتھ کے وزیر نوئیل بیکر امن کے لئے مؤثر راستہ تلاش کرنے کے لئے کوشاں تھے مگر اب اس معاملے میں وزیر اعظم اور ان کے اختلافات بڑھ چکے تھے۔چوہدری صاحب کی تقریر کے بعد جس طرح انہوں نے پاکستان کی حمایت شروع کر دی تھی، یہ بات ماؤنٹ بیٹن اور وزیر اعظم ایٹلے کو بہت ناگوار گزری تھی۔شیخ عبداللہ صاحب نے تو اپنی کتاب میں اس بات کا بہت شکوہ کیا ہے کہ نوئل بیکر نے ہندوستانی وفد کے اراکین سے سخت رویہ اختیار کر کے پاکستان کی حمایت شروع کر دی تھی (۳۳)۔چنانچہ جب سلامتی کونسل کی کاروائی دوبارہ شروع ہوئی تو پہلی قرارداد کی بجائے ایک اور قرار داد پیش کی گئی۔یہ قرارداد ان تجاویز کے مطابق تھی جو حضرت چوہدری صاحب سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم ایٹلے نے پیش کی تھیں۔ایٹلے شروع ہی سے تحریک پاکستان کے حق میں نہیں تھے۔اس نئی قرارداد میں اس قضیئے کے لئے ایک تین رکنی کمیشن قائم کیا گیا جو کشمیر میں رائے شماری کا اہتمام کرائے اور طے پایا کہ اس رائے شماری کو امن قائم ہونے پر کرایا جائے گا اور اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل اس کام کے لئے ایک ایڈ منسٹریٹر مقرر کرے گا جو ریاست کے ایک افسر کی حیثیت سے کام کرے گا۔لیکن اس قرارداد میں کشمیر سے مختلف افواج کی واپسی کا پلان نہیں دیا گیا تھا۔یہ قرارداد گذشتہ قرار داد سے کمزور تھی۔اب حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور آپ کے ساتھیوں نے اسے مضبوط بنانے کی کاوشیں شروع کیں۔اور کچھ ترامیم منظور بھی کی گئیں لیکن اس کا ڈھانچہ وہی رہا جو ایٹلے نے تجویز کیا تھا۔باوجود اس کے کہ اب ہندوستان سے رعایت بھی کی گئی تھی۔جب قرار داد پیش کی گئی تو پاکستان نے اس پر تنقید کرنے کے باوجود اسے تسلیم کر لیا۔لیکن ہندوستان نے ایک بار پھر اس پر احتجاج کیا کیونکہ یه قراردادان سابقہ امیدوں کے بالکل برعکس تھی کہ سلامتی کونسل صرف قبائلی لشکروں اور رضا کاروں کو نکالے اور باقی معاملہ ہندوستان پر چھوڑ دیا جائے۔اور اس کے منظور ہونے سے رائے شماری کرانا ایک قانونی تقاضہ بن جاتا تھا۔لیکن بہر کیف یہ قرارداد منظور کر لی گئی۔اور آج تک جب بھی پاکستان کی